عَزَّ وَجَلَّ سے مغفرت طلب کروں گا۔(1)
(6)…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:’’یَاکَرِیْمُ الْعَفُوُّ‘‘تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نےپوچھا:کیا آپ اس جملےکی تفسیر جانتے ہیں؟ اس کامطلب یہ ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی رحمت سے گناہوں کو معاف کر دےاور اپنے کرم سے انہیں نیکیوں سے تبدیل کر دے (2)۔(3)
نعمت کےپورا ہونے سےمراد ؟
رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکسی شخص کو”اللہمَّ اِنِّی اَسْاَلُـکَ تَمَا مَ النِّعْمَةِ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تجھ سے نعمت کے پورا ہو نے کا سوال کرتا ہوں“کہتے ہو ئے سنا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نعمت کےپوراہونے کامطلب دریافت فرمایا۔اس نے عرض کی:میں نہیں جانتا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:جنت میں داخلہ۔(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہم پراپنی نعمت پوری کردی:
علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمارے لئے اسلام پسند کرکے ہم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا ہے کیو نکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلَامَ دِیۡنًا ؕ (پ۶،المائدہ:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند البزار،مسند عبد اللہ بن مسعود،۵/ ۳۰۸،حدیث:۱۹۲۵
2… شعب الایمان، باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة،٥/ ۳۸۹، الحدیث : ۷۰۴۳
3…علامہ عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرماتے ہیں:میں نے اس واقعہ کو رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےنہیں پایا بلکہ اس طور پر ملتا ہے کہ یہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَاماور حضرت سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے درمیا ن پیش آیا تھا،اورایسے ہی اس واقعہ کوابو الشیخ نے کتاب العظمہ میں عتبہ بن ولید کے قول کے طور پر اور بیہقی نے شعب الایمان میں عتبہ بن ولید کی روایت سے ایک زاہد کے حوالے سے ذکر کیا۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۳۴۸)
4…سنن الترمذی ، کتاب الدعوات، باب۹۳ ،۵/ ۳۱۲،حدیث : ۳۵۳۸