(2)…اس امت کا ہرشخص ایک یہودی یا نصرانی کو پکڑ کر جہنم کی طرف لائے گا اور کہے گا:یہ جہَنَّم سے میرا فِدیہ ہےچنانچہ اُسےدوزَخ میں ڈال دیاجائے گا۔(1)
(3)…بخار جہنم کے جوش سےہے اور یہ مومن کا آگ سے حصہ ہے۔(2)
یَوْمَ لَا یُخْزِی اللہُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۚ (پ۲۸،التحریم:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن اللہ رسوانہ کرے گانبی اور ان کےساتھ کےایمان والوں کو۔
اس ارشادباری تعالیٰ کی تفسیرکے متعلق مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سَیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف وحی فرمائی کہ میں آپ کی اُمَّت کا حساب آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عرض کی:اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ!نہیں،کیونکہ میرے مقابلے میں تو ان پر زیادہ رحم فرمانے والاہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا: جب یہ بات ہے تو ہم ان کے مُعاملےمیں تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔(3)
(4)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رحمتِ عالم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی اُمَّت کے گناہوں کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّ سےعرض کی:اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ!ان کا حساب میرے حوالے کردے تاکہ ان کی بُرائیوں پر میرے علاوہ کوئی مُطَّلَع نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف وحی فرمائی کہ یہ لوگ تمہاری اُمَّت ہیں اور میرے بندے ہیں اورمیں ان پرتم سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں لہٰذا میں ان کا حساب کسی کو نہیں سونپوں گا تاکہ ان کی برائیوں کو نہ آپ دیکھ سکیں نہ کوئی اَور۔(4)
(5)…میری زندگی اوروصال دونوں تمہارے لئے بہتر ہے۔میری زندگی اس لئے کہ میں تمہارے لئے سنتیں اور احکامِ شرع بیان کرتا ہوں اور میراوِصال اس لئے کہ تمہارے اعمال میرے سامنے پیش کیے جا ئیں گے تو ان میں سے جو اچھا عمل ہو گا اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکرادا کروں گا اور جو بُرا ہو گا اس پر تمہارے لئے اللہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسلم، کتاب التوبة، باب قبول توبة القاتل وان کثر قتلہ، ص ۱۴۸۰ ،حدیث: ۲۷۷۸،بتغیر
2… حلية الاولیاء ، الرقم:۱۷۱، عروة بن زبیر،۲/ ۲۰۸،حدیث : ۱۹۶۰
بخاری،کتاب الطب،باب الحمی من فیح جھنم،۴/ ۲۸،حدیث:۵۷۲۵،دون’’وھی حظ المؤمن من النار‘‘
3…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الحسن الظن باللہ،۱/ ۸۱، حدیث: ۶۲،بتغیرقلیل
4… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۵۷