Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
430 - 882
	منقول ہے کہ حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی امت کے لئے(مغفرت کا) سوال کرتے رہے حتّٰی کہ آپ سے کہا گیا :کیا آپ اب بھی راضی نہیں ہیں حالانکہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے: وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾ (1)اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہےکہ حضرت محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اس وقت تک راضی نہ ہوں گے  جب تک ان کا ایک امتی بھی جہنم میں ہو گا۔(2)
سب سے زیادہ اُمید والی آیت:
      	حضرت سیِّدُنا ابو جعفر امام  محمد باقرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقفرمایا کرتے: ”اے اہلِ عراق تم  یہ کہتے ہو کہ قرآنِ پاک  میں سب سے زیادہ اُمید والی آیت یہ ہے:
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ (پ۲۴،الزمر:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اے میرے وہ بندوجنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو
	جبکہ  ہم اہْلِ بیت کہتےہیں سب سے زیادہ امید والی  آیت یہ ہے:
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾ (پ۳۰،والضحٰی:۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں  اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
اُمید کے متعلق38فرامین مصطفٰے:
(1)…میری اُمّت، اُمَّتِ مَرحومہ ہے،اس پر آخرت میں عذاب نہیں ہوگا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ زلزلوں اور فتنوں کی شکل میں اسے دنیا میں ہی سزا دےدے گااور جب قیامت کا دن ہوگا تو میری اُمَّت کے ہر فردکو اہْلِ کتاب میں سے ایک ایک شخص دیا جائے گااور کہا جائے گا: یہ جہَنَّم سے تمہارا فِدیہ ہے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں  اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔(پ۳۰،والضحی:۵)
2…فردوس الاخبار،فصل فی تفسیر القرآن،۱/ ۴۰۱،حدیث:۷۳۸۲
3…سن ابی داود، کتاب الفتن والملاحم، باب ما یرجی فی القتل،۴/ ۱۴۲، حدیث :۴۲۷۸
	سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب صفة  امة محمد،۴/ ۵۱۳ ،حدیث:۴۲۹۲