گئی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کیسے ہوسکتاہے؟“ ارشاد فرمایا:”وہ ہروقت اس گناہ کو پیش نظر رکھ کر اس سے توبہ کرتا رہتا ہے اور اس سے بھاگتا ہے یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجا تا ہے۔“(1)
(5)…کَفَّارَةُ الذَّنۡبِ النَّدَامَةُ یعنی گناہ کا کفارہ ندا مت وشرمندگی ہے۔(2)
(6)…اَلتَّآئِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّاذَنۡبَ لَہ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔(3)
(7)…ایک حبشی نے عرض کی:”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں بےحیائی کے کام کیا کرتا تھا کیا میرے لئے توبہ ہے؟“حُضوررحمَتِ عالَم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ہاں۔“ تو وہ لوٹ گیا پھر دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کی:”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بےحیائی کے کام کرتے ہوئے دیکھتا تھا؟“ فرمایا:”ہاں۔“ تو اس حبشی نے ایک زوردار چیخ ماری اور ساتھ ہی اس کی روح نکل گئی۔(4)
(8)…جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےشیطان کو لعنت فرمائی تو اس نے مہلت مانگی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے قیامت تک کی مہلت دے دی تو اس نے کہا:”مجھے تیری عزت کی قسم!جب تک انسان کے جسم میں روح ہے میں اس کے دل سے نہیں نکلوں گا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا:”مجھے بھی اپنی عزت وجلال کی قسم!جب تک انسان کے جسم میں روح ہے میں اس سے توبہ کو نہیں چھپاؤں گا۔“(5)
(9)…اِنَّ الۡحَسَنَاتِ یُذۡھِبۡنَ السَّیِّئَاتِ کَمَا یُذۡھِبُ الۡمَآءُ الۡوَسَخَ یعنی نیکیاں گناہوں کو ایسے دور کردیتی ہیں جیسے پانی میل کو بہا لے جاتا ہے۔
قبولیتِ توبہ سے متعلق15اقوالِ بزرگانِ دین
(1)…حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشادفرمایاکہ یہ فرمانِ باری تعالیٰ:” فَاِنَّہٗ کَانَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد لابن مبارک، باب ماجاء فی الخشوع والخوف، ص ۵۲، حدیث:۱۶۲، بتغیر قلیل
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عباس،۱/ ۶۲۰،حدیث:۲۶۲۳
3…سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب ذکر التوبة،۴/ ۴۹۱،حدیث : ۴۲۵۰
4…تنویر الغبش لابن جوزی ، ص ۱۴۷،الناشردارالشریف ریاض سنةالنشر۱۴۱۹ھ
5…الزھد لابن المبارک، ص ۳۶۹، حدیث : ۱۰۴۵، بتغیر