ہوتے ہیں۔ تمناکرنےوالے بھی کسی نادرحالت یااچانک پیش آنےوالےواقعےکی وجہ سے تمناکرتے ہیں۔ جب دنیا میں اکثر لوگوں پر خیر وسلامتی کی حالت غالب ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کادستور بدلتا نہیں ہے تو غالب یہی ہے کہ آخرت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہو گا کیو نکہ دنیا اور آخرت کی تدبیر فرمانے والا ایک ہی ہے۔ وہ بخشنے والارحم فرمانے والاہے،بندوں کا محافظ اور ان پر مہربان ہے،جب اس طرح غورکیا جائے جیسا کہ حق ہے تو اُمید کے اسباب قوی ہو جا ئیں گے۔
آیتِ مُداینہ(1)میں اُمید کا پہلو:
نصیحت حاصل کرنے کی ایک صورت شریعت کی حکمتوں ،دنیاوی مُعاملات میں اس کی رہنمائی اوران مُعاملات میں بندوں پر رحمت کی وجہ پرغور کرنابھی ہے حتّٰی کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسورہ ٔ بقرہ کی آیتِ مداینہ کواُمید کے قوی ترین اسباب میں سے خیال کر تے تھے،ان سے پو چھا گیا :اس آیت میں تو امید کی کوئی بات نہیں ہے ؟ارشاد فرمایا:دنیا تمام کی تمام قلیل ہے اور انسان کا رزق اس قلیل دنیا سے قلیل ہے اور دَین (2)اس قلیل رزق سے بھی قلیل ہے تو غور کرو کہ کیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قلیل دَین کے متعلق طویل ترین آیت (آیتِ مداینہ)نازل فرمائی تاکہ اپنےبندے کو دَین کی حفاظت کے سلسلےمیں احتیاط کےراستے کی ہدایت فرمائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دَین کی حفاظت کیونکرنہیں فرمائےگاجس کابندے کےپاس کوئی عوض ہی نہ ہو؟
اُمید کےبارے میں بے شمار آیات،احادیث اور آثار وارد ہو ئے ہیں۔
اُمید کے متعلق چھ فرامین باری تعا لیٰ:
(1)…
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…پ۲،سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۲۱۳تا ۲۱۴ آیتِ مداینہ کہلاتی ہے۔ ،
2…صَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :جو چیز واجب فی الذمہ ہو کسی عقد مثلاً بیع یا اجارہ کی وجہ سے یا کسی چیز کے ہلاک کرنے سے اسکے ذمہ تاوان ہوا یا قرض کی وجہ سے واجب ہوا، ان سب کو دَین کہتے ہیں۔ دَین کی ایک خاص صورت کا نام قرض ہے، جس کو لوگ دستگرداں کہتے ہیں۔ ہر دَین کو آج کل لوگ قرض بولا کرتے ہیں، یہ فقہ کی اصطلاح کے خلاف ہے۔(بہارشریعت ،حصہ۱۱، ۲/ ۷۵۲(