ہے کہ تمام دوائیں ہر مریض کے لئے کارآمد ہو تی ہیں خواہ مرض کیسا ہی ہو۔
حالَتِ اُمِّید کیسے غالب ہو؟
اُمید کی حالت دو چیزوں کے ذریعے غالب ہو تی ہے ،نصیحت پکڑنے کے ذریعے اورآیات،احادیث اور آثار کے تَتَبـُّع وتلاش کے ذریعے۔
نصیحت حاصل کرنے کے ذریعے اُمید کا غلبہ:
شکر کے باب میں ہم نے جومختلف نعمتیں بیان کی ہیں ان کے ذریعے نصیحت حاصل کرنےکی صورت یہ ہے کہ اُن پر غور وفکر کرتا رہے حتّٰی کہ دنیا میں بندوں کو دی گئی نعمتوں کے لطائف سے آگاہ ہو جائے اور جو عجیب حکمتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کی خِلْقَت میں ملحوظ رکھی ہیں ان سے واقف ہوجائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کودنیا میں ہر وہ چیز مہیاکر دی جو اس کی بقاکے لئے ضروری تھی مثلاً آلات ِغذا اور ان کے استعمال کے لئے جن چیزوں کی حاجت تھی جیسےانگلیاں اور ناخن پھر اسے وہ چیزیں بھی عطا کی گئیں جو اس کے لئے زینت تھیں مثلاًابروؤں کا کمان کی شکل میں ہونا،آنکھوں میں دومختلف رنگوں یعنی سیاہی اور سفیدی کا ہو نا اور ہونٹوں کا سرخ ہونا وغیرہ جن کے نہ ہونے سے غرض میں خلل واقع نہیں ہو تا صرف حسن و جمال متاثر ہو تا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عنایت:
یہ اللہ عَزّ َ وَجَلَّ کی عنایت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے مُعاملے میں اس طرح کے باریک اُمور بھی نظرانداز نہیں کئے حتّٰی کہ وہ اپنے بندوں کے لئے اس بات پر بھی راضی نہ ہوا کہ حاجت اور زینت کی اضافی اشیاء فوت ہو جائیں تو پھروہ انہیں دائمی ہلاکت کی طرف لے جانے پر کیسے راضی ہو گا؟بلکہ اگر انسان صحیح نظرسے دیکھےتو اسے معلوم ہوجائےگا کہ اکثر مخلوق کے لئےدنیا میں اسبابِ سعادت مہیا کر دیے گئے ہیں حتّٰی کہ وہ موت کے ذریعے دنیا سے جاناپسند نہیں کرتے ہیں اگرچہ انہیں یہ بتلادیا جائے کہ مرنے کے بعدانہیں کبھی بھی عذاب نہیں دیا جائے گایا دوبارہ زندہ نہیں کیا جا ئے گالہٰذا وہ موت کو صرف اس لئےناپسند کرتے ہیں کہ یقیناً دنیا میں نعمتوں کے اسباب ان پرغالب ہیں اور موت کی تمنا کرنےوالے بہت کم