Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
426 - 882
 مقصودتمام صفات و اَخلاق میں اِعتدال ہے اور بہترین اُمور وہی ہوتے ہیں جن میں میانہ روی ہولہٰذا اگر کوئی صفتِ اعتدال سے تجاوُز کرکے اِفراط وتفریط میں سے کسی ایک کی جانب مائل ہو جا ئےتو اس کا علاج ایسی چیز کے ساتھ کیا جا ئے گا جو اسے اعتدال کی طرف لے آئے نہ کہ ایسی چیز کے ساتھ جو اسے اعتدال سے اور زیادہ دور لے جائے ۔
اس زمانے میں  وعظ کااندازکیساہو؟
	اس زمانے کے لوگوں کے ساتھ  فقط اُمیدکے اسباب عمل میں نہیں لانےچاہئیں بلکہ خوف دلانے میں مبالغہ  کرناچاہئے کیونکہ کہیں ایسانہ ہو کہ لوگ حق اوردُرُست  راہ سے ہٹ جائیں کہ فقط اُمید کے اسباب کا ذکر تو ان کو بالکل ہلاک کر دے گالیکن چونکہ اُمید کے اسباب دلوں  کے لئے خفیف تر اور نفسوں کے لئے لذیذ تر ہیں اور واعظ تو صرف چاہتے ہی یہی ہیں   کہ لو گ ان کی طرف مائل ہوں  اور کلمات تحسین بلند کریں خواہ کسی بھی طرح ۔اس لئے وہ امید کی طرف مائل ہو گئے  یہاں تک کہ بگاڑ میں مزید اضافہ ہو گیا اور سرکشی میں منہمک لوگ اپنی سرکشی میں اَور زیادہ بڑھ گئے۔
عالم کون ہے؟
	حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:”عالِم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے نا اُمید کرے نہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے  بے خوف کرے۔“(1)
اسبابِ امید ذکر کرنے کی وجہ:
	ہم امید کے اسباب اس لئے ذکر کررہے ہیں تاکہ انہیں مایوس یا اس شخص کے حق میں استعما ل کیا جائے جس پر خوف کا غلبہ ہے  اور ایسا ہم قرآن وحدیث کی پیروی میں کر رہے ہیں کیونکہ یہ دونوں  خوف اور امید پر مشتمل ہیں بلکہ مختلف قسم کے مریضوں کے حق میں تمام اسبابِ شفاکے جامع ہیں تاکہ علما جو کہ وارثِ انبیا ہیں طبیب حاذِق کی طرح حَسبِ حاجت انہیں استعمال کریں،اس بے وقوف کی طرح نہیں  جو یہ سمجھتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۷۰