میں پیش کردیں گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس سے دریافت فرمائے گا:”تونے اپنا ٹھکانا کیسا پایا؟“وہ عر ض کرے گا :”بہت بُرا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:”اسے دوبارہ وہیں لےجاؤ۔“وہ جارہا ہوگا تو پیچھے مڑ کر دیکھے گا۔اللہ عَزَّ وجَلَّ فرمائے گا: کیا دیکھتا ہے؟وہ عرض کرے گا :مجھے تجھ سےیہ اُمید تھی کہ ایک مرتبہ جہَنَّم سے نکالنے کے بعد مجھے دوبارہ اس میں نہیں بھیجے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائےگا: ”اسے جنت میں لے جاؤ۔“(1)
یہ حدیث ِپاک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کی اُمید ہی اس کی نجات کا سبب بنی۔ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے لطف و کرم کی بدولت حُسنِ توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
تیسری فصل: اُمیدکاعلاج اوراسےحاصل کرنے کا بیان
جان لیجئے! اس کے علاج کی حاجت دو قسم کے لوگوں کو پڑتی ہے:(۱)…اس شخص کو جس پر ما یو سی کا غلبہ ہو اور وہ عبادت کو ترک کردے اور(۲)…وہ شخص جس پر خوف غالب ہو اور عبادت پر ہمیشگی اختیار کرنے میں اس حدتک بڑھ جائے کہ خود کو اور اپنے گھر والوں کو بھی تکلیف میں ڈال دے۔یہ دونوں شخص راہِ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں اور اِفراط و تفریط کی طرف مائل ہیں۔ان دونوں کو ایسےعلاج کی ضرورت ہے جو ان کواِعتدال کی طرف لےآئےلیکن دھوکےمیں مبتلا شخص جو عبادت سے غفلت برتنےاورگناہ کرنےکےباوُجوداللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مغفرت کا خواہاں ہو تو ایسے شخص کے حق میں اُمید کی دوا زہر ِقاتل میں تبدیل ہو جا ئے گی جیسے شہد اس شخص کے لئے توشفا ہے جس کے مزاج میں ٹھنڈک غالب ہو مگر جس کے مزاج میں گرمی کاغلبہ ہو اس کے لئے زہرِ قاتل ہے بلکہ دھوکے کا شکار شخص اپنے لئےصرف خوف کی اَدْوِیات استعمال کرے اور ان اسباب کو عمل میں لا ئے جوخوف پیدا کریں۔
واعظ کو کیسا ہونا چاہئے؟
واعظ کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبض شناس ،بیماریوں کے مواقع کی طرف نظر رکھنے والا اور ہرباطنی بیماری کا علاج اس کی ضد سے کرنے والا ہو نہ کہ اس چیزکے ساتھ جو مرض میں مزید اضافہ کردےکیونکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب حسن الظن باللہ،۱/ ۱۰۵،حدیث: ۱۰۹