Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
424 - 882
 مَا فَعَلَ اللہ  بِکَ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟انہوں نے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اپنی بارگاہِ  عالی   میں  کھڑاکرکےفرمایا:”اے بد عمل بوڑھے! تو نے فلاں فلاں کام کیا ۔“فرماتے ہیں: مجھ پر اس قدر رُعب طاری ہوگیا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی جانتا ہے۔پھر میں نے عرض کی:اے میرے ربعَزَّ   وَجَلَّ!مجھے تیرایہ حال نہیں بتایاگیا ہے۔ ارشادفرمایا:”پھرمیرے بارے میں کیابیان کیا گیا؟“میں نے عرض كی:مجھ سے حضرت   عبد الرزاق نے ،ان سے حضرت مَعمَر نے،ان سےحضرت امام زُہری نے اور ان سے حضرت سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے اور وہ تیرے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اورآپ نے حضرتِ جبریْلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام کے حوالے سے بیان فرمایا کہ تُو فرماتا ہے:”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں تو  وہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے۔“(1) میرا گمان یہ تھا کہ تُو مجھے عذاب نہیں دے گا،تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا: جبریل نے سچ کہا ، میرے نبی نے سچ کہا ،انس،زُہری،معمر ،عبد الرزاق نے بھی سچ کہا اور میں نے بھی سچ کہا۔حضرت  سیِّدُنایحییٰ بن اکثمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں:پھر مجھے جنتی لباس پہنایا گیا اور جنت تک میرے آگے آگے غلام چلتے رہے  تو میں نے کہا:واہ! یہ تو خوشی کی بات ہے۔
رحمَتِ الٰہی سےنا اُمیدکرنے کا انجام:
	منقول ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص لوگوں کواللہ عَزَّ   وَجَلَّکی رحمت سے مایوس کرتا اوران پر سختی کیا کرتا تھا ۔بروزِقیامت  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے ارشاد فرمائے گا:”آج میں تجھے  اپنی  رحمت سے  مایوس کردوں گا جس طرح تو میرےبندوں کواس سے نا اُميد کرتا تھا۔“(2)
اچھی اُمید جہنم سے نجات کا سبب بن گئی:
	رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:ایک شخص  كوجہنم میں ڈال دیا جائے گا تو وہ وہاں ایک ہزار سال تک ”یَاحَنَّان یَامَنَّان“ کہہ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو پکارتا رہےگا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جبریلِ امین  سے فرمائے گا:”جاؤ!میرے بندے کو لے کر آؤ۔“چنانچہ وہ اسے لے کر آئیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب الرقائق،باب حسن الظن باللہ تعالٰی،۲/ ۱۵،حدیث:۶۳۴ عن واثلة بن الاسقع
2… المصنف لعبد الرزاق ، کتاب العلم، باب الاقناط،۱۰/ ۲۶۱،حدیث: ۲۰۷۲۸،بتغیرقلیل