ونصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:” اگر تم وہ جانتےجو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اور بہت روتے اور پہاڑوں کی طرف نکل جاتے اور تمہارے دل بے چین ہو جاتے اورتم اپنے ربّ کےحُضور گِڑگڑا نے لگتے۔“(1) حضرت سیِّدُنا جبریْلِ امین عَلَیْہِ السَّلَامبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:آ پ کا ربّ آپ سے ارشاد فرماتا ہے:”میرے بندوں کوکیوں مایوس کرتے ہیں؟“یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں اُمیداورشوق دلایا۔(2)
لوگوں کے دلوں میں میری محبت پیدا کیجئے:
منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:”مجھ سے محبت کریں اور جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں ان سے بھی محبت کریں اور لوگوں کے دلوں میں میری محبت پیدا کریں۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےعرض کی:اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ!میں لوگوں کے دلوں میں تیری مَحبت کیسےپیدا کروں؟ارشافرمايا:”مجھے خوبیوں کے ساتھ یاد کرو ، میرےانعامات و احسانات کو بھی یاد کرو اور لوگوں کوبھی یاد دلاؤ کیو نکہ وہ مجھ سے صرف اچھے سلوک ہی کو جا نتے ہیں۔“
بکثرت اُمید دلانےکا انعام:
حضرت سیِّدُناابان بن ابی عیاش عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاباُمید کاكثرت سے ذکركياکرتے تھے۔کسی نے انہیں خواب میں دیکھ کر حال دریافت کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اپنی بارگاہ عالی میں کھڑا کرکے استفسارفرمایا:”تُو اُمید کا کثرت سے ذکر کیوں کرتا تھا؟“ميں نے عرض کی:میں چاہتا تھا کہ مخلوق کے دل میں تیری محبت اُجاگر کروں۔یہ سن کر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بخش دیا۔
حکایت: واہ! یہ تو خوشی کی بات ہے
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن اَکثم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمْ کےوصال کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھ كرپوچھا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب فی قول النبی: لو تعلمون… الخ،۴/ ۱۴۰، حدیث: ۲۳۱۹،دون’’تلمدون صدورکم‘‘
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب العلم،باب ذکربیان بان علی العالم… الخ،۱/ ۱۶۲،حدیث:۱۱۳