رحمت کی اُمید:
نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ بروزِ قیامت بندے سے اِستِفسار فرمائے گا : ”جب تو نے برائی دیکھی توکس وجہ سے اسے نہیں روکا ؟“اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ذہن میں جواب القا فرمادے گا تو وہ عرض کرے گا:اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! مجھے تیری رحمت کی اُمید تھی اور لوگوں کا خوف تھا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ”میں نےتیراگناہ معاف کیا۔“(1)
حُسنِ ظن اوراُمید کے باعث بخشش:
صحیح حدیث (2)میں ہے کہ ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا،وہ مالدار کے ساتھ نرمی کرتا اور تنگ دست کو مُعاف کردیتا۔(3) جب اس کی موت واقع ہوئی تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملا کہ اس نے کوئی بھی نیک عمل نہیں کیا تھا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا:ہم سے زیادہ معاف کرنےکاکون حق دار ہے؟(4) یوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُسے عبادت کے مُعاملے میں مُفْلِس ہونے کے باجود حُسْنِ ظن اور اُمید رکھنے کے باعث بخش دیا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتْلُوۡنَ کِتٰبَ اللہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرْجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ۲۹﴾ (پ۲۲،فاطر:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک وہ جو اللہکی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز ٹوٹا (خسارہ)نہیں۔
میرے بندوں کومایوس نہ کیجئے:
ایک مرتبہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےصحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو وعظ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب قولہ تعالٰی: یا ایھاالذین امنو،۴/ ۳۶۶، حدیث : ۴۰۱۷،دون’’قدغفرتہ لک‘‘
2…وہ حدیث جس کی سند متصل ہو ،تمام راوی عادل ضابط ہوں اور اس حدیث میں عِلَّتِ قادحہ وشذوذ نہ ہواور اگر ضبط میں کمی ہو تو تعدد طرق سے یہ کمی پوری ہوجائے۔(نصاب اصول حدیث مع افادات رضویہ،ص۴۲،۴۱)
3…اس امید پر کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھ سے درگزر فرمائے۔(بخاری،کتاب البیوع ،باب من انظر معسراً،۲/۱۲،حدیث:۲۰۷۸)
4… مسلم، کتاب المساقاة، باب فضل انظار المعسر، ص ۸۴۴،حدیث: ۱۵۶۱، ۱۵۶۲