خوف اور اُمید کے درمیان شخص:
سَیِّدِعالَم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کے پاس تشریف لائےجو نزع کے عالم میں تھا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس سے پوچھا :خود کو کیسا محسوس کر رہے ہو؟اس نے عرض کی :میں اپنے آپ کو اس طرح پاتا ہوں کہ گناہوں پر خوف زدہ ہوں اور اپنے رب کی رحمت کا اُمیدوار ہوں ۔ارشاد فرمایا:ایسے وقت میں جب کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں (اُمیدوخوف)جمع ہوجائیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی اُمید اسے عطا فرماتا ہے اور جس چیز سے وہ خوف زدہ ہو تا ہے اُس سے اُسے امن عطا فرماتا ہے ۔(1)
رحمَتِ الٰہی سے نااُمیدی بہت بڑا گناہ ہے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک شخص سے جو گناہوں کی کثرت کے باعث خوف کی وجہ سے مایوسی کا شکارتھا،فرمایا:”اے فلاں! تمہارا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے نا اُمید ہونا تمہارے گناہوں سے بھی بڑا گناہ ہے۔“
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بد گمانی کے سبب ہلاکت:
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ارشاد فرمایا:جو شخص گناہ کرے پھر وہ یہ جانے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےاسےمیری تقدیر میں لکھ دیا ہے اور مغفرت کی اُمید رکھے تو اللہ عَزّ َ وَجَلَّ اس کا گناہ بخش دیتا ہے کیونکہ اللہ عَزّ َ وَجَلَّ نے ایک قوم کا عیب بیان کرتے ہو ئے ارشاد فرمایا:
وَ ذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰىکُمْ (پ۲۴،حم السجدة:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا۔
اور فرماتاہے: وَ ظَنَنۡتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ ۚۖ وَکُنۡتُمْ قَوْمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۲﴾ (پ۲۶،الفتح:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم نے بُرا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الجنائز، باب ۱۱،۲/ ۲۹۶،حدیث: ۹۸۵