سمجھئے کہ دو بادشاہوں میں سے ایک کی خدمت اس کی سزا کے خوف سے کی جاتی ہو اور دوسرے کی انعام کی اُمید پرتوانعام کی اُمید رکھنے والاخوف رکھنے والےشخص کے مقابلے میں زیادہ مَحبت کرنے والا ہو گا ۔ اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُمید اور اچھا گمان رکھنے کےمتعلق ترغیب دلائی گئی ہےبالخصوص موت کے وقت۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے: لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ (پ۲۴،الزمر:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔
معلوم ہوا کہ(ربّ تعالیٰ کی رحمت سے) نااُمید ہونا حرام ہے۔
باپ اور بیٹے میں جُدائی کا سبب:
منقول ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا یعقوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہارے اور یو سُف کے درمیان جُدائی کیوں ڈالی؟انہوں نے عرض کی:نہیں۔ ارشاد فرمایا: تم نے (حضرت یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَامکےمتعلق ان کے بھائیوں سے )کہا تھا:میں ڈرتا ہوں اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس سے بے خبر رہو۔(1)تم نے بھیڑئیےکاخوف کیوں کیا؟مجھ سے اُمید کیوں نہ رکھی؟تم نےیوسف(عَلَیْہِ السَّلَام) کےبھائیوں کی غفلت کو کیوں دیکھا اورمیرے حفظ وامان کی طرف نظر کیوں نہ کی؟
اللہ عَزَّ وَجَلَّکےمتعلق بندے کا گمان کیساہو؟
مُحسنِ کائنات، فَخْرِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”لَا یَمُوْتَنَّ اَحَدُکُمْ اِلَّا وَھُوَ یُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللہ تَعَالٰی یعنی تم میں سے ہر ایکاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اچھاگمان رکھتے ہوئے ہی مرے۔“(2)
رحمتِ عالم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:”اَنَـا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْیَظُنَّ بِیْ مَاشَآ ءَیعنی میں اپنے بندے کے گمان کےمطابق ہوں اب وہ میرے متعلق جو چاہے گمان ركھے۔“(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…(پ۱۲،یوسف:۱۳)
2…مسلم، کتاب الجنة، وصفة نعیمھا، باب امر بحسن الظن باللہ تعالٰی، ص ۱۵۳۸،حدیث: ۲۸۷۷
3… سنن الدرمی ، کتاب الرقاق، باب حسن ظن باللہ،۲/ ۳۹۵، حدیث: ۲۷۳۱