Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
42 - 882
نوفرامین مصطفٰے:
(1)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندۂ مومن کی توبہ پر اس شخص سے کہیں زیا دہ خوش ہو تا جوکسی غیرمُوافق مُہْلِک جگہ پر اُترے، اس کے پاس اپنی سُواری بھی ہوجس پراس کا کھانا پینا ہو، وہ سررکھ کر گہری نیندسوجائے، جب بیدار ہو تواس کی سُواری جاچکی ہو، وہ اسے تلاش کرتاپھرے یہاں تک کہ اسے سخت گرمی اورپیاس لگے یا جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چاہے اوروہ کہے:میں اپنی اسی جگہ لوٹ جاتا ہوں جہاں میں تھا تاکہ وہاں جا کر سوجاؤں حتّٰی کہ میرا انتقال ہوجائے۔چنانچہ وہ مرنے کے لئے اپنی کلائی پرسررکھ دے۔ پھرجب بیدارہو تودیکھے کہ اس کی سواری اس کے پاس موجود ہے جس پر اس کاکھانااورپانی موجودہے۔ توجس قدروہ شخص اس سواری کے ملنے پرخوش ہوتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے کی توبہ پر اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتاہے۔‘‘(1)
	اس حدیث شریف میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کابندے کی توبہ پر خوش ہونا بیان ہوا اور خوشی قبولیت کے بعد ہوتی ہے، لہٰذایہ حدیث پاک قبولیتِ توبہ اور اس پر ایک اضافی اَمْر کی دلیل ہے۔
(2)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے رات دن نافرمانی کرنے والے کے لئے توبہ کے ساتھ اپنا دسْتِ رحمت کُشادہ فرما رکھا ہے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طُلُو ع ہو جا ئے۔(2)
	”دسْتِ رحمت کاکُشادہ فرمانا“ طلَبِ توبہ سے کنا یہ (یعنی اس کی طرف اشارہ)ہے اورطلب کرنے والا قبول کرنے والے سے اوپر کے درجہ میں ہوتاہے کیونکہ بہت سے قبول کرنے والے طالِب نہیں ہو تے مگر ہرطالب قبول کرنے والاضرور ہوتا ہے۔
(3)…اگر تم اتنے گناہ کرو کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھرتمہیں نَدامت ہو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہا ری توبہ ضرور قبول کرے گا۔(3)
(4)…ایک بار ارشاد فرمایا:”بے شک بند ہ گنا ہ کرتا ہے پھر اس کے سبب جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔“عرض کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب التوبة، باب فی الحض علی التوبة والفرح بھا، ص ۱۴۶۸، حدیث:۲۷۴۴
2…مسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة…الخ، ص ۱۴۷۵، حدیث:۲۷۵۹ ،بتغیرقلیل
3…سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب ذکر التوبة،۴/ ۴۹۰،حدیث : ۴۲۴۸، بتغیر