Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
419 - 882
 پر لا زمی طور پر ظاہر ہو تے ہیں جو کسی بادشاہ یا کسی شخص سے اُمید رکھتا ہے تو اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے حق میں ان اَحوال کا ظہور کیسے نہیں ہوگا ؟اور اگران کا ظہور نہیں ہوتا توسمجھ لو کہ وہ مقامِ اُمید سے محروم اور دھوکے اور تمنا کےگڑھے میں گرا  ہوا ہے۔
	یہ اُمید کی وضاحت تھی اوراس علم کی جس سے  اُمید  پیدا  ہو تی  ہے اوراس عمل کی جو امیدکےسبب وجود میں آتا ہے۔اُمید کے ذریعے اعمال کے وجود میں آنے پرحضرت سیِّدُنازیدالخیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وہ  روایت دلالت کرتی ہےجس میں انہوں نے بارگاِ رسالت میں  عرض کی:میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ جس شخص کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بہتری کا ارادہ فرماتا ہے اس کی کیا پہچان ہے اور جس کے ساتھ بہتری کا ارادہ نہیں فرماتا اس کی کیاعلامت ہے؟آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: تم نے صبح کس حال میں کی؟عرض کی:میں نے صبح اس حالت میں کی کہ میں نیکی اور نیکوں سے محبت کرنے والاہوں ،جب نیکی پر قدرت پاتا ہوں  تواس کی طرف سبقت کرتا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ  مجھے اس کا ثواب  حاصل ہو گا اور جب مجھ سے کوئی نیک عمل چھوٹ جاتا ہےتو اس پرغمگین ہوجاتاہوں اور اس کو پانے کا منتظر رہتا ہوں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”یہ اس شخص کی علامت ہے جس کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے،اگرتمہارے لئے بُرائی کا ارادہ فرماتا تو تمہارے  لئے اس کے اَسباب مہیا فرمادیتا پھر وہ اس بات کی پرواہ نہیں  کرتا  کہ برائی کی کون  سی وادی میں تم ہلاک ہو تے ہو۔(1)
	دیکھئے! سَیِّدِعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاس شخص کی علامت بیان کر دی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا گیاہے تو جو شخص ان علا مات کے بغیر ہی  اس بات کی اُمید رکھے کہ اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا گیا ہے تو ایسا شخص دھوکے میں مبتلا ہے۔
دوسری فصل:		اُمیدکی فضیلت اوراس کی ترغیب  کابیان
	جان لیجئے! اُمید کے ساتھ عمل کرنا خوف کے ساتھ عمل کرنے سے اعلیٰ ہےکیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاسب سے زیادہ مُقَرَّب بندہ وہ ہے جو اس سے زیادہ محبت کرتا ہو اور محبت کا غلبہ اُمید کے ذریعے ہوتاہے ۔اسے یوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… حلیة الاولياء،عبد اللہ بن مسعود،۱/ ۴۶۱،حدیث:۱۳۰۰