کےباوُجود اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تمنا رکھے۔پھر آپ نے یہ اشعار پڑھے:
تَرْجُوا النَّجَاةَ وَلَمْ تَسْلُـکْ مَسَالِکَھَا اَنَّ السَّفِیْنَةَ لَا تَجْرِیْ عَلَی الْیَبَسِ
ترجمہ:تم نجات کی اُمید تو رکھتے ہو مگر اس کے راستوں پر نہیں چلتے یقینا کشتی خشکی پر نہیں چلا کرتی۔
جب آپ نے اُمید کی حقیقت اور اس کے مقام کو پہچان لیاتوآپ نے یہ بھی جان لیا کہ یہ ایسی حالت ہے جو علم کے نتیجے میں اکثر اسباب کے وُقوع کے بعد پید ا ہو تی ہے اور اس حالت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی بقدرِاِمکان بقیہ اَسباب کو اختیار کرنے کی کو ششوں میں لگ جاتا ہے کیو نکہ جو شخص پیدا وار کے قابل زمین میں عمدہ بیج بوتا ہے اور اسےضرورت کے مطابق پانی دیتا ہےتو اس کی اُمیدسچی ہوتی ہے اور وہ سچی اُمید اسے زمین کی دیکھ بھال اور اس میں اُگنے والی خود رَو گھاس کو دور کرنے پر ابھارتی رہتی ہے لہٰذا وہ کاٹنے کے وقت تک اس کی دیکھ بھال کرنے سے بالکل بھی غفلت نہیں برتتا کیونکہ اُمید مایوسی کی ضد ہے اور مایوسی دیکھ بھال کرنے سے روکتی ہے ۔
اُمید عمل پر اُ کساتی ہے :
جو شخص اس بات کو جانتا ہے کہ زمین نمکین ہے اور پانی بھی کم ہے ،بیج بھی کھیتی اُگانے کی صلاحیت نہیں رکھتےتو وہ لازمی طور پر زمین کی نگرانی چھوڑدیتا ہے اور اس کی دیکھ بھا ل میں خود کو تھکاتا نہیں ہے ۔ اُمید اس لئے محمود ہے کہ وہ عمل پر اُ کساتی ہے اور مایوسی جو کہ اُمید کی ضد ہے اس لئے مذ موم ہے کہ وہ عمل سے روک دیتی ہے اور خوف اُمید کی ضد نہیں بلکہ اس کا رفیق ہے جیسا کہ عنقریب اس کی وضاحت آئے گی بلکہ جس طرح امید رغبت کی راہ سے عمل پر ابھارتی ہے اسی طرح خوف بھی ڈر دلاکرعمل کا مُحَرِّک بنتا ہے ۔
مقامِ اُمید سے محروم شخص:
جسے اُمید کی حالت میسر ہو تی ہے وہ اعمال کے ساتھ طویل مجا ہدہ کر لیتا ہے اور اُسےعبادات پر پابندی نصیب ہو جاتی ہے اگر چہ احوال میں تبدیلی ہو تی رہے۔اس کی ایک علامت یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ رہنے کے سبب لذت پاتا ہے اور اس کے ساتھ مناجات کے ذریعے لُطف اندوز ہو تا ہے اور دعا کے وقت اس کے سامنے عجز کے اظہار میں اسے خوشی حاصل ہو تی ہے ۔ یہ وہ احوال ہیں جو ہر اس شخص