Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
417 - 882
توفیْقِ توبہ کی اُمید کے لائق کون؟
	اگر توبہ سے پہلےکوئی  شخص گنا ہ کو ناپسند کرتاہے اور گناہ اسے ناگوار گزرتے ہوں اور نیکیوں سے خوشی محسو س ہو تی ہونیزوہ نفس کی مذمت اور اسے ملامت کرتا ہے اور توبہ کی خواہش اور اس کا شوق رکھتا ہے تو وہ اس بات کے لائق ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے توبہ کی توفیق کی اُمید رکھےکیو نکہ اس کا گناہ کو ناپسند کرنا اور توبہ پر حریص ہونا اُس سبب کے قائم مقام ہے جو توبہ تک لے جاتا ہےاور اُمید اسباب  کےمکمل طور پر مہیا ہونے کے بعد ہو تی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِۙ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوۡنَ رَحْمَتَ اللہِؕ (پ۲، البقرة:۲۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں۔
	مطلب یہ ہے کہ یہ  لوگ رحمتِ الٰہی کی اُمید رکھنے کے مستحق ہیں ۔اس سے یہ مراد نہیں کہ اُمید صرف ان ہی لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ بعض اوقات ان کے علاوہ لوگ بھی امید رکھتے ہیں لیکن امید  رکھنے کےحق دارصرف یہی لوگ ہیں ۔
	رہا وہ  شخص جواللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے ناپسندیدہ کاموں میں منہمک رہتا ہے ، نہ اس پر نفس کی  مذمت کر تا ہے اور نہ توبہ اور رجوع کا ارادہ رکھتا ہے تو ایسےشخص کا مغفرت کی اُمید رکھنا بے وقوفی ہےاور اس طرح کی اُمید اس شخص کی امیدجیسی ہے  جونمکین زمین میں بیج بوئے اور پانی دینے اور صفائی کے ذریعے اس کی دیکھ بھال کرنے کا ارادہ نہ کرے۔
بڑا دھوکا:
	حضرت سیِّدُنا یحی بن مُعاذرازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:میرے نزدیک بڑے دھوکوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی مغفرت کی امیدرکھتے ہوئے  بغیر کسی ندامت کے گناہوں میں مشغول رہے اور  عبادت کے بغیر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قُرب کی اُمید رکھے اور جہنم کابیج بَوکر جنت کی کھیتی کا منتظر رہے اور گنا ہوں کے اِرتکاب کے باوجوداطاعت گزاروں کے گھر کاطالب رہے نیز بغیرعمل کے ثواب کا انتظار کرےاور زیادتی