Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
416 - 882
 الْجَـنَّةیعنی احمق  وہ ہے جو اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرے پھراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے جنت کی تمنّا رکھے۔“(1)
	اللہعَزَّ   وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ (پ۱۶،مریم:۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے  جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غَی(2)  کا جنگل پائیں گے۔
	اور فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدْنٰی وَیَقُوۡلُوۡنَ سَیُغْفَرُ لَنَا ۚ (پ۹،الاعراف:۱۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہو ئے اس دنیا کا مال لیتے ہیں اور کہتے اب ہماری بخشش  ہو گی۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  قرآن پا ک میں اُس باغ والے کی مذمت فرمائی جس نے اپنے باغ میں داخل ہو کر یہ کہا:
مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِیۡدَ ہٰذِہٖۤ اَبَدًا ﴿ۙ۳۵﴾ وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰی رَبِّیۡ لَاَجِدَنَّ خَیۡرًا مِّنْہَا مُنۡقَلَبًا ﴿۳۶﴾ (پ۱۵،الکھف:۳۶،۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان: مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں اپنے رب کی طرف پھرگیابھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا۔
تمامیَتِ نعمت اور قبولیَتِ توبہ کی امیدکون رکھے؟
	بہرحال وہ بندہ جونیکیوں میں کوشش کرتا ہے اور گناہوں سےباز رہتا ہےوہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےفضل یعنی نعمت کے پورا ہونے کا منتظر رہے اور نعمت صرف جنت  میں داخلے کی صورت میں پو ری ہو گی اور وہ گناہ گار جو توبہ کر لیتا ہے اور اپنی تمام کو تاہیوں کی تلافی کر لیتا ہے تووہ اس بات کا حق دار ہے کہ قبولیتِ توبہ کی امید رکھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…غریب الحدیث لابن سلام،دین،۱/ ۴۳۸
2…”غَی“جہَنّم  میں ایک وادی ہےجس کی گرمی سے جہنم کی وادیاں بھی پناہ مانگتی ہیں۔(خزائن العرفان)