Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
415 - 882
 یعنی اسے اس کے اوقات میں پانی دیتا ہے پھر زمین سے کانٹے،خود رَو گھاس اوران تمام رکاوٹوں کو دور کرتا ہے جو بیج کی بڑھوتری یا بڑھوتری کے بعد اس کےخراب ہونے کی راہ میں حائل ہوں پھراللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کے  فضل کا منتظر ہوکر بیٹھ جاتاہے کہ وہ کھیتی تیار ہونے تک زمین کو بجلی کی گرج اوراسےخراب کرنےوالی آفات سے بچائے گاتو اس کا یہ انتظار اُمید کہلاتا ہے۔اگرکوئی ایسی زمین میں بیج بوئے جوسخت یانمکین ہو یا ایسی بلندی پرواقع ہوجس میں پانی نہ پہنچ سکےنیزوہ اس کی بالکل دیکھ بھال بھی نہ کرےاورکھیتی کا ٹنے کا انتظار کرے تو ایسا انتظار  بے وقوفی اور دھوکاکہلائے گاامید نہیں۔اگر کسی نے عمدہ زمین میں بیج بویامگر اسے پانی نہ دیااور بارش کے پانی کا انتظار کر نے لگا جبکہ یہ وہ وقت ہو جس میں غالب طور پر بارش نہ برستی  ہوالبتہ برسنا ممکن ہوتو اس انتظار کو تمنا کہتے ہیں نہ کہ اُمید۔
	معلوم ہوا کہ اُمید کا لفظ ایسی محبوب چیز کے انتظار پر صادق آتا ہےجس کے تمام اسباب مہیا ہوں اور وہ بندے کے اختیار میں ہوں ،صرف وہ اسباب باقی رہ گئے ہوں جو بندے کے اختیار میں  نہ ہوں تو اباللہ عَزَّ وَجَلَّ کافضل ہی ہےکہ وہ اس  کھیتی سےتمام نقصانات اورمُفْسِدات کو دور کردے۔
حقیقی اُمید:	
	جب بندہ ایمان کا بیج بوتا ہے  اور  اس کو عبادات کے پانی سے سیراب کرتا  ہے اور دل کو بری عادات کے کانٹوں سے پاک کرتا ہے تو پھر وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل یعنی ان چیزوں پر مرتے دم تک قائم رہنے اور مغفرت کا سبب بننے والے حُسنِ خاتمہ کا منتظر رہتا ہے تو اس کا یہ انتظار حقیقی اُمید ہے جو فی نفسہٖ قابلِ تعریف ہے اور اسبابِ ایمان کے مطابق موت تک مغفرت کے اسباب کی تکمیل میں مشغولیت اور ہمیشگی  کا باعث ہے۔
احمق شخص:
	اگر ایمان کے بیج کاحق  عبادت کےپانی سے دیکھ بھال کرکے پورانہ کیا یا دل کو بُرے اخلاق میں مُلَوَّث رہنےدیا اور دنیاوی لذات کی طَلَب میں منہمک رہا پھر مغفرت کا منتظر بھی رہا تو اس کا یہ انتظار حماقت اور دھوکا ہے۔رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے:”اَلْاَ حْمَقُ مَنْ اَ تْبَعَ نَفْسَہُ ھَوَاھَا وَ تَمَنّٰی عَلَی اللہ