متوقع چیزکا محبوب ہوناضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا کوئی سبب ہو۔
لہٰذا اگرکسی چیز کا انتظار اس کے اکثر اسباب کےحاصل ہوجانے کی وجہ سے ہے تو اس پر اُمید کا نام صادق آتاہے اور اگریہ انتظار ناقص اسباب کے ساتھ ہویا اِضطراب کے ساتھ ہو تو اس پر دھوکے اور بے وقوفی کا نام اُمید کے مقابلے میں زیادہ صادق آتا ہے اور اگراسباب کی موجودگی اورغیرموجودگی کا پتا ہی نہ ہوتو اس انتظار پر تمنا کانام زیادہ صادق آتا ہے کیونکہ یہ انتظاربغیر کسی سبب کےہے ۔
اُمیداور خوف کا لفظ کن چیزوں پر بولا جا ئے گا؟
بہرحال اُمید اور خوف کا نام ان ہی چیزوں پر بو لا جا ئے گا جن کے پائے جانے میں ترَدُّد ہو اور جن کا وُجود یقینی ہوان پر نہیں بو لاجا ئےگا کیو نکہ سورج کے طلوع کے وقت یہ نہیں کہا جاتا کہ مجھے سورج کے طلوع ہونےکی اُمید ہے اور غروب کے وقت یہ نہیں کہا جا تا کہ مجھے غروبِ آفتاب کا خوف ہےکیونکہ یہ دونوں باتیں یقینی ہیں۔البتہ یہ کہا جاسکتا ہےکہ مجھے بارش کے برسنے کی اُمیدہے اور اس کے رک جا نے کا خوف ہے۔
دنیا آخرت کی کھیتی ہے :
اربابِ بصیرت جانتے ہیں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہےاور دل زمین کی طرح ہے ،ایمان اس میں بیج کی حیثیت رکھتا ہے اور عبادت کی مثال زمین میں ہَل چلانے،اس کی صفائی کرنے،نہریں کھو دنے اور ان کی طرف پانی لے جانے کی طرح ہے ۔جودل دنیا پر فریفتہ اور اس میں مُسْتَغْرَق ہے اس نمکین زمین کی طرح ہے جس میں بیج کی نشو ونَما نہیں ہو تی اور قیامت کا دن کھیتی کاٹنے کا دن ہے اور ہر شخص وہی کاٹے گا جو اس نے بویا ہوگا اور کھیتی کا بڑھنا ایمان کے بیج ہی کے ذریعےممکن ہےاور ایمان قلب میں خباثت اوربُری عادات کی موجودگی میں کم ہی نفع پہنچاتا ہے جس طرح کھاری زمین میں بیج پھلتا پھولتا نہیں ہے ۔
اُمید،دھوکا اور تمنا کی مثال:
بندے کے مغفرت کی اُمید کو کھیتی والے کی اُمید پر قیاس کرنا چاہئے توجو شخص بھی اچھی زمین حاصل کرتا ہے اس میں سڑا ہوااور کیڑا لگاہوابیج نہیں بوتابلکہ عمدہ بیج بوتا ہےاور بیج کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے