باب نمبر1: امیدکابیان(اس میں تین فصلیں ہیں)
پہلی فصل: امیدکی حقیقت کابیان
مقام اور حال کی تعریف:
جان لیجئےکہ امید مقاماتِ سالکین میں سے ایک مقام اور احوالِ طالِبِیْن میں سے ایک حال ہے۔ جب وصف باقی اورقائم رہے اسےمقام کہا جاتا ہے اورجب وہ عارضی اور جلد زائل ہونے والا ہو تو اسےحال کہتےہیں۔ جس طرح زردی کی تین قسمیں ہوتی ہیں:(۱)…جو باقی رہتی ہےجیسے سونے (Gold)کی زردی(۲)…جوجلد زائل ہو جاتی ہے جیسے خوف کی وجہ سے چہرے کا زرد ہوجانا اور (۳)…وہ جو اِن دونوں کے درمیان ہو تی ہے جیسے مریض کے جسم کا زرد ہو جانا (کہ مریض کی زردی کبھی باقی رہ جاتی اور کبھی زائل ہو جا تی ہے )۔
اسی طرح دل کی صفات میں بھی یہی تقسیم ہوتی ہے۔جو صفت باقی نہ رہتی ہواسے” حال“ کہتے ہیں کیونکہ حال جلد ہی تبدیل ہو جا تا ہے اور یہ صورت تمام اَوصافِ قلب میں پیش آ تی ہے ۔اس وقت ہمارا مقصد امید کی حقیقت بیان کر نا ہے اور امیدکی تکمیل حال، علم اور عمل سےہو تی ہے پس علم کے نتیجے میں حال پیدا ہوتا ہے ،حال عمل کا تقاضا کر تا ہے اور اُمید ان تینوں کے مجموعے کی حالت کا نام ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ کوجو کچھ پیش آتا ہے وہ نا پسندیدہ ہوگا یا پسندیدہ پھر وہ فی الحال موجود ہوگا یا ماضی میں اس کا وُجود رہ چکا ہو گا یا مستقبل میں اس کا انتظارہو گا۔اگر آپ کے دل میں اس بات کا خیال آئے جو ماضی میں واقع ہو چکی ہے اسے ذِکراور تَذَکُّر(یعنی یاد آنا)کہتے ہیں اور اگر دل میں آنے والی چیزکاخیال فی الحال موجود ہے تو اسے وَجْد،ذوق اور اِدراک کہتےہيں۔وجد کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسی حالت ہے جسے آپ اپنے اندرپا تے ہیں۔اوراگر آپ کے دل میں کسی ایسی چیز کا خیا ل آئے جس کا وُجود مستقبل میں مُتَوقَّع ہے اور وہ چیزدل پر غالب بھی آ جائے تو اسے انتظار اور توقع کہتے ہیں اور چیزجس کا انتظار ہے اگروہ ناپسند ہو اور اس کے خیال سے دل کو تکلیف پہنچتی ہو تو اسے خوف اور اِشفاق کہتے ہیں اور اگرکسی محبوب چیزکاانتظارہو اور اس کی طرف میلان اور دل میں خیال آنے سے دل کو لذت اور خوشی حاصل ہو تی ہو تواس خوشی کو اُمید کہتے ہیں ۔معلوم ہوا اُمید اس چیز کے انتظار سے خوش ہونےکو کہتے ہیں جو اس کے نزدیک محبوب ہو۔ اُمید میں