خوف اور اُمید کا بیان
تمام تعریفیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس کے لُطف وثواب کی اُمید رکھی جاتی ہے اور اس كی خفیہ تدبیر اور عذاب كا خوف رکھا جاتا ہے جس نےاپنے اولیا کے دلوں کواُمید کی خوشی وفرحت کے ساتھ آباد کیا حتّٰی کہ انہیں اپنے قُرب کی جنت میں ٹھہرنےکی لطیف نعمت عطا کی اورمصیبتوں کے گھر(جہَنَّم) سے بچایا جو اس کے دشمنوں کا ٹھکانا ہے۔اس نے اپنی بارگاہ سے منہ موڑنے والوں کو خوف کے کوڑوں اور سخت سرزنش کے ذریعے ثواب و کرامت کے گھر(جنّت) کی طرف پھیر دیا۔ اپنی ملامت کی زد میں آنےاور اپنے غضب و انتقا م کا نشانہ بننے سے ان کی حفاظت فرمائی ۔مختلف قسم کےلوگوں کو جنت کی طرف چلایا کبھی قہر اور سختی کی زنجیروں کے ذریعے اور کبھی نرمی ومہربانی کی رسیوں کے ذریعے۔درود و سلام نازل ہو حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جوانبیاکے سردار اور مخلو ق میں سب سے بہتر ہیں اورآپ کے آل واصحاب پر بھی۔
دوپَر اور دو سُواریاں:
اُمید اور خوف دو ایسے پر ہیں جن کے ذریعے مُقَرَّبِین ہر پسندیدہ مقام کی طرف پروازکرتے ہیں اور دوایسی سواریاں ہیں جن پر سوار ہو کروہ آخرت کی راہوں کی ہر دُشوار گزار گھا ٹی طے کرتے ہیں۔ رحمٰن کے قُرب اور جنّت کی طرف ایسی صورت میں نہیں چلاجاسکتا جبکہ اُمیدبہت بعیداور زادِ راہ ایسا بھاری ہو جو دلوں کو ناپسند اور اعضاء کی مشقتوں سے پُر ہےمگر اُمیدکی لگام کے ذریعےیہ سفرممکن ہے اور انتہائی پوشیدہ خواہشات اورعمدہ لذات کے ضمن میں چھپی ہوئی دوزخ کی آگ اوردردناک عذاب سے خوف اورسختی کے کوڑوں کے ذریعےہی بچاجاسکتاہے۔
اس لئے ان دونوں کی حقیقت ،ان کے فضائل اور ان دونوں کے باہم مخالف ہو نے کے باوُجودجمع کی صورت بیان کرنا ضروری ہے ۔ہم ان دونوں کو دوباب میں جمع کریں گے ۔ پہلےباب میں امید اور دوسرے میں خوف کابیان ہوگا۔
پہلا باب امید کی حقیقت ،فضیلت اوراس کےعلاج کی دوا حاصل کرنے کے بیان پرمشتمل ہو گا۔