Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
410 - 882
 صبر تکلیف میں کیاجاتا ہے جبکہ رِضا دکھ اور خوشی دونوں میں ممکن ہےاور شکر صرف فرحت وخوشی میں ادا کیاجاتاہے۔شکر کے بھی کئی درجات ہیں ہم نے اعلیٰ درجہ ذکر کیا ہے۔ بہت سے درجات  ایسے بھی ہیں جو اس درجہ کے مقابلے میں کمتر ہیں جیسےبندے کااپنےاوپر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے مسلسل نعمتوں کی وجہ سے حیا کرنا ،شکر میں کوتاہی کرنے کوپہچاننا ،کم شکری  پرمعذرت پیش کرنا ،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عظیم حلم اور اس کی طرف سے پردہ پوشی کوپہچاننا،اس بات کا اِعتراف کرنا کہ میں ان نعمتوں  کاحقدار نہیں پھربھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ نعمتیں عطا فرمائیں ، اس بات  کوجانناکہ  نعمت کاشکراداکرنا بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّطرف سے  نعمت اور عطیہ ہے اور نعمت ملنے پر عاجزی وانکساری  کرنا۔یہ سب شکرہی ہے نیزنعمت ملنے کے وسیلہ کا شکراداکرنا  بھی شکر ہےکیونکہ حضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”مَنْ لَّمْ یَشْکُرِالنَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہیعنی جس نے بندوں کا شکریہ اد انہیں کیااس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا نہیں کیا۔“(1)
	ان سب  کی حقیقت ہم نے’’ اسرارِ زکوٰۃ‘‘کے بیان میں ذکر کی ہے۔نعمت عطاکرنے والے پر اعتراض نہ کرنا اور حسنِ ادب اختیار کرنا ،نعمتوں کو اچھی طرح قبول کرنا اور چھوٹی نعمتوں کو بڑا سمجھنا بھی شکر ہے۔ صبروشکر کے  تحت جواحوال واعمال آتے ہیں انہیں ایک ایک کرکےشمارنہیں کیاجاسکتا۔ان کے مختلف درجات ہیں، اجمالی طور پر ایک کو دوسرے پرکیسے فضیلت دی جاسکتی ہے؟البتہ عام لفظ بول کر خاص مراد لے سکتے ہیں جیساکہ احادیث و آثار میں آیا ہے۔
حکایت :70 یا80 سال سے شکرِ نعمت
	ایک بزرگ فرماتے ہیں:میں نے سفرکے دوران ایک بزرگ کی زیارت کی جو بوڑھے ہوچکے تھے۔میں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: عالَم ِ شباب میں  مجھے اپنے چچا کی بیٹی سے محبت ہوگئی ۔ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس نے مجھ سے شادی کرلی۔ شبِ زِفاف میں نے اس سے کہا :آؤ!یہ رات ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے شکر میں گزاریں کہ اس نے ہمیں ملادیا پس ہم رات بھر نوافل پڑھتے رہے اور ہم دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کے لیے فارغ نہ ہوا۔ دوسری رات آئی  تو وہی فیصلہ کیا اور رات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی،کتاب البروالصلة،باب فی الشکر لمن احسن الیک،۳/ ۳۸۴،حدیث:۱۹۶۲