Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
41 - 882
 ہوجائے کہ سورج طُلُوع ہونے کے باوجود اند ھیرا دور نہیں ہو تا اور صابن سے دھونے کے باوجودکپڑے کا میل ختم نہیں ہوتا البتہ! جب میل تہ درتہ کپڑے پر جم جائے تو اب صابن بھی اسے ختم نہیں کرپاتا۔ ا س کی مثال یہ ہے کہ جب گنا ہ پر گناہ ہو تے رہیں حتّٰی کہ وہ طبیعت بن جائیں اوران کا زنگ دل کومکمل گھیر لے تو ایسا دل رجو ع کرتا ہے نہ توبہ۔ ہاں! بعض اوقات زبان سے کہتا ہے کہ”میں نے تو بہ کی۔“ تویہ ایسے ہی ہے جیسے دھوبی اپنی زبان سے کہے کہ ”میں نے کپڑا دھو یا۔“مگراس کا یہ کہنا کپڑے کو بالکل بھی صاف نہیں کرے گا جب تک اس جمے ہوئے میل کی کاٹ کرنے والی شے استعمال کرکے کپڑے کی صِفَت کو تبدیل نہ کرے۔ پس یہ اصل تو بہ سے باز رہنے کاحال  ہے اور یہ کوئی بعیدنہیں بلکہ دنیا پر فریفتہ ہونے اورباری تعالیٰ سے مکمل طور پر منہ موڑنے والے تما م لوگوں پریہی بات غالب ہے۔
قبولیت توبہ سے متعلق آیات،احادیث اوراقوال
	بصیرت والوں کے لئےصحیح تو بہ کے قبول ہونے کے متعلق گُزشْتہ بیان کافی ہے مگر ہم اس بیان کو مزید مضبوط کر نے کے لئے قرآنی آیات،اَحادیْثِ نَبَوِیہ اوربُزرْگوں کے اَقوال وآثار پیش کرتے ہیں کیونکہ ہر وہ ظاہر وواضح بات جس کی گواہی قرآن وسنت نہ دے اس پر اعتماد ویقین نہیں کیا جاتا۔
دو فرامینِ باری تعالیٰ:
(1)… وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَ یَعْفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ (پ۲۵،الشورٰی:۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔
(2)… غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیۡدِ الْعِقَابِ ۙ (پ۲۴،المؤمن:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا سخت عذاب کرنے والا۔
	قبولِیَتِ توبہ کے بارے میں ان کے علا وہ بھی کثیر آیاتِ مُقَدَّسہ وارِدہیں ۔