Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
409 - 882
 مسکینوں کو دینے کے لئے جمع کرتے ہیں ۔وہ انتظارمیں ہوتے ہیں کہ کوئی حاجت مند ہو تو اس پرخرچ کریں پھر جب خرچ کرتےتو شہرت اورعزت کی طَلَب کے لئے نہیں کرتے نہ احسان جتانےکے لئے کرتے  بلکہ بندوں کاجائزہ لےکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق کو اداکرتے ہیں تو یہ  مال دار، صبرکرنے والے فقیر سے افضل  ہیں ۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	مال دار کاخرچ کرنا نفس کےلئے مشقت کا باعث نہیں جبکہ محتاجی فقیر پرگراں گزرتی ہے کیونکہ  مال دار کوتومال پرقدرت کی لذت  ہوتی ہے جبکہ فقیر توصبرکے دکھ کومحسوس  کرتا رہتا ہے۔مال داراگرچہ مال کی جدائی  پر دکھی  ہوتاہےلیکن یہ دکھ خرچ کرنے پر قدرت کی لذت سےختم ہوجاتا ہے؟
	جواب :ہمارے نزدیک وہ  مال دارمرادہے  جو رغبت اور خوش دلی سے اپنا مال خرچ کرتاہوتو اس کا حال اس سے زیادہ کامل ہوگا جو بخل کے ساتھ خرچ کرتا ہے اور نفس پر جبر کرکے مال کو جدا کرتا ہے۔ ہم نے توبہ کے بیان میں اس کی تفصیل ذکر کردی  ہے۔نفس کو دکھ پہنچانا ذاتی طور پر مقصود نہیں بلکہ یہ اس کو ادب سکھانے کے لئے  ہوتا ہے گویایہ شکاری کتے کو مارنے کی طرح ہے اور تَربِیَّت یافتہ کتامارکھانے والے کتے کے مقابلے میں زیادہ کامل ہوتا ہے اگرچہ مار پر صبر کرتاہو۔ اسی لیےوہ ابتدا میں تکلیف اورکوشش کا محتاج ہوتا ہے اور آخر میں اسے ان دونوں باتوں کی ضرورت  نہیں رہتی بلکہ آخر میں تکلیف دہ  بات اس کے نزدیک لذیذ بن جاتی ہے جس طرح عقل مند بچے کے نزدیک حصولِ علم لذیذ ہوجاتا ہے حالانکہ شروع شروع میں اس کے لئے یہ اذیت ناک تھا۔اکثر لوگوں کی حالت شروع شروع  میں بلکہ اس سے بھی پہلے بچوں کی طرح  ہوتی ہے۔ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مُطْلَقًا فرمایا :جو شخص اپنے نفس کو تکلیف دے وہ افضل ہے۔ تو عوام کے اعتبار سے ان کی بات صحیح ہے۔
	ایسی صورت میں تفصیلی جواب کی حاجت نہیں بلکہ اکثر مخلوق کے اعتبار سے مطلق بیان کرنا ہو گاکہ صبر، شکر سے افضل ہے تویہ عوامی سمجھ کے اعتبار سے درست ہے۔جب تحقیق کا ارادہ ہو تو تفصیل چاہئے کیونکہ صبرکے کئی درجات ہیں۔سب سے ادنیٰ درجہ تنگی میں بھی شکایت نہ کرنا ہے۔ ان درجات سے اوپر مقام ِ رضا ہے جو صبر سے اوپر ہے ۔ اس سے آگے آزمائشوں پرشکر کرنا ہے یہ رضا سے بھی اوپر ہے کیونکہ