Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
408 - 882
سیِّدُناجنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی رائے: 
	سَیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے خاص اسی بات کی طرف اشارہ فرمایاجب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےصبر وشکر کے متعلق پوچھا گیا:کون افضل ہے؟ فرمایا:”نہ  مال دارمال  کی وجہ  سے قابل ِتعریف ہے اور نہ  محتاج مال نہ ہونے کی وجہ سے قابل ِتعریف ہےبلکہ دونوں کی تعریف شرائط  کے ساتھ قائم ہونے کی وجہ سےہے۔ مال دارکی شرائط اس کی صفت کے مطابق ہوتی ہیں اور نفس اس سے لطف اورلذت حاصل کرتاہے  جبکہ   محتاج کی شرائط میں ایسی باتیں ہیں جو اس کو ایذا دیتی اور بے قرار کرتی ہیں۔ جب یہ دونوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے ان شرائط کو قائم رکھیں اور جس کی صفت اسے تکلیف دے اور بے قرار کرے وہ اس سے کامل حال والا ہوگا جو عیش وعشرت میں رہے۔“
	حضرت سیِّدُنا جنید  بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے جو بات فرمائی یہ بات ہماری ذکرکردہ صبر و شکر کی اقسام میں سے صرف آخری قسم پر صادق آتی ہے ،دیگران کی مرادنہیں۔
حکایت :مخالفت کا انجام
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناابو العباس بن عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سلسلے میں حضرت سیِّدُنا جنید  بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی مُخالَفَت کرتے ہوئے کہا:مال دار شکرگزار صبرکرنےوالے  فقیر سے افضل ہے۔ تو حضرت سیِّدُناجنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے ان کے خلاف دعا کی تو ان کو اولاد کے قتل، مال کے ضیاع اور چودہ سال تک عقل کے زوال کی سخت آزمائش کاسامناکرنا پڑا۔خودفرمایا کرتے:مجھے حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی بددعا لگی ہے،لہٰذا بعد میں انہوں نے اپنی بات سے رجوع  کرلیا اور صبرکرنے والےفقیر کو  مال دار شکرگزارسے افضل سمجھنےلگے۔
	جب آپ ہمارے ذکرکردہ مَطالِب پرغور کریں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں اقوال اپنی اپنی جگہ  کوئی نہ کوئی وجہ رکھتے ہوں گے ۔ کئی صبرکرنےوالے  فقیر مال دار شکرگزار سے افضل  ہوتے ہیں جیسا کہ پیچھےگزرا اور کئی مال دار شکرگزار صبرکرنےوالے  فقیر سے افضل ہیں ۔یہ وہ مال دار ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو فقیرسمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پاس حسبِ ضرورت مال رکھتے ہیں ،بقیہ مال نیک کاموں میں خرچ کردیتے ہیں یا محتاجوں اور