اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت پر خوش ہونادونوں شامل ہیں ۔ اس میں فقرا پر خرچ کرنے کےدرد کاپہلو بھی پایا جاتا ہے نیز اسے جائز خوشیوں میں صرف کرنے سے باز رکھنا بھی ہے۔گویا حاصل کلام اس بات کی طرف لوٹتا ہےکہ دو چیزیں ایک چیز سے افضل ہوتی ہیں اور کل ، بعض کے مقابلے میں اعلیٰ رُتبہ رکھتا ہے اور اس بات میں بھی خلل ہے کیونکہ کُل اور اس کے بعض اَجزاء کے درمِیان مُوازَنہ نہیں ہوسکتا۔
کب صبر افضل ہے اور کب شکر؟
اگرشکر کی یہ صورت ہو کہ نعمت کے ذریعے گناہ پر مدد حاصل نہ کی جائے بلکہ اس کو جائز خوشی پرخرچ کیاجائےتو اس صورت میں صبر، شکر سے افضل ہے۔صبرکرنےوالافقیراس مالدار سے افضل ہے جومال روکے رکھے اورفقط جائزکاموں میں خرچ کرےالبتہ اس مال دار سے افضل نہ ہوگاجو اپنا مال نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے۔صبرکرنےوالافقیراس لئےافضل ہے کہ وہ بعض اوقات نفس سے مجاہَدہ کرتا ہے، اس کی حرص کو ختم کرتا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے آنے والی آزمائش پر پوری طرح راضی رہتا ہے اور یہ حالت لازماً قوت کا تقاضا کرتی ہے۔مال دار آدمی حرص وشہوت کے پیچھے توچلتا ہے لیکن ا س نے جائز کام پر اکتفا کیا اورجائز کام کرنے میں حرام کام سے چھٹکارا ہے مگرحرام سے بچنے کے لیے بھی قوت چاہئے لیکن جس قوت کے تحت فقیر صبر کرتا ہے وہ جائزکام سے خوشی حاصل کرنے والی قوت پر اِکتفا کرنےسے اعلیٰ اوراتم ہے اور شرف اسی قوت کو حاصل ہوتا ہے جس پر عمل دلالت کرے کیونکہ اعمال، دل کےاحوال کے لئے مقصود ہوتے ہیں اوریہ قوت دل کی حالت ہے جو یقین اور ایمان کی قوت کے مطابق مختلف ہوتی رہتی ہے تو جو چیزقوتِ ایمانی میں اضافے پر دلالت کرے وہ یقیناً افضل ہوگی ۔
قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں صبرو شکر کےثواب کی جو تفصیل آئی ہے اس سے یہی خاص رُتبہ حاصل کرنا مقصود ہے کیونکہ عوام کے ذہن میں نعمت کاتصور مال اور مال داری ہےجبکہ نعمت کے شکر کا مفہوم ذہنوں میں یہ آتاہے کہ انسان”اَلْحَمْدُلِلّٰہ“کہے اوراس کے ذریعے گناہ پر مددحاصل نہ کرے اور یہ مفہوم نہیں سمجھاجاتاکہ نعمت کو اطاعت ِ الٰہی میں خرچ کیاجائے۔جب ایسی صورت ہو تو صبر، شکر سے افضل ہوگا یعنی وہ صبر جسے عوام صبر سمجھتی ہے وہ ا س شکر سے افضل ہوگاجسےعوام شکرسمجھتی ہے۔