اعمال کی تاثیر کےمطابق ہدایت اور نورِ معرفت قبول کرنے کے لئے تیارہوجاتاہے۔ یہ ایک جامع بات اور بنیادی ضابِطہ ہے،لہٰذا اعمال،احوال اور معارِف کی فضیلت پہچاننے کے لئے اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ اب ہم اپنے موضوع یعنی صبر و شکر کی طرف دوبارہ رخ کرتے ہیں۔صبر و شکر دونوں میں معرفت ، حال اورعمل کاوُجودپایاجاتاہے، لہٰذا ایک میں پائی جانے والی معرفت کا دوسرے میں پائے جانے والے حال اور عمل کے ساتھ مقابلہ نہ کیا جائے بلکہ ہر ایک کا مقابلہ اس کی مثل کے ساتھ کیا جائے تاکہ مناسَبَت ظاہر ہو اور اس کے بعد فضیلت واضح ہو۔
صبر وشکر کے اجتماع کی صورت:
جب شکرکرنےوالے کی معرفت کا صبرکرنے والے کی معرفت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو بعض اوقات دونوں کی معرفت ایک ہی ہوجاتی ہے مثلاً:شکرکرنےوالے کی معرفت یہ ہے کہ وہ بینائی کی نعمت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے سمجھے اور صبرکرنےوالےکی معرفت یہ ہے کہ نابیناہونے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے سمجھے۔یہ دونوں معرفتیں ایک دوسرے کو لازم و مساوی ہیں۔ یہ اس وقت ہے جب ہم ( صبر کو) مصیبت وآزمائش میں شمار کریں ۔ہم بیان کرچکے ہیں کہ صبر کبھی اطاعت اورکبھی معصیت سے بازرہنے پر ہوتا ہے اور اس صور ت میں صبر وشکراکٹھے پائے جاتے ہیں کیونکہ عبادت پر صبر کرنا اطاعت پر عین شکر ہےکیونکہ شکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کو اس سے مقصود حکمت (اطاعتِ الٰہی ) میں استعمال کرنے کوکہا جاتا ہے اور صبر نفسانی خواہشات پر ابھارنے والی چیزوں کے مقابلے میں دینی بات پرابھارنے والی چیزوں پر ثابت قدم رہنے کو کہا جاتا ہے۔ تو صبر وشکر اس تعریف کےمطابق دومختلف تعبیروں کے ذریعے ایک مفہوم کے دو نام ہوئے چنانچہ باعِثِ ہوٰی کے مقابلے میں باعِثِ دینی کاثابت رہنا صبر ہے اگر نسبت نفسانی خواہشات کی طرف ہو اور اگر نسبت دینی بات کی طرف ہوتو یہ شکر ہےکیونکہ دِینی بات پرابھارنے والی چیزاسی حکمت یعنی شہوت پرابھارنے والی چیزکو پچھاڑنے کے لئے پیداکی گئی ہے اورجب اس نے اسے مقصود کی طرف پھیردیا تو یہ ایک مفہوم کے لئے دو تعبیریں ہوئیں تو کس طرح ایک چیزخود سے افضل ہوسکتی ہے؟
اطاعت و مَعْصِیَّت میں اس کا حکم واضح ہوگیاجہاں تک مصیبت کا تعلق ہے تو وہ نعمت نہ ہونے کا نام ہےاور