یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًاۙ وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ (پ۱،البقرة:۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے۔
دھوکے کے شکاراوراِباحت پسندی کی راہ اختیار کرنےوالوں نے جب یہ گمان کیا کہ ان سے مساکین اور فقرا کی خدمت لی جارہی ہےیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے دینے کوکہاجارہا ہےتو کہنے لگے نہ ہمیں مَساکین سے کچھ ملنا ہے نہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ہمارے مال کی حاجت۔ہم مال خرچ کریں یا نہ کریں برابر ہے۔یہ اس طرح ہلاک ہوئے جیسے وہ لڑکا ہلاک ہوا جب اس نے سوچا کہ اس کے والد کا مقصد غلاموں سے خدمت لینا ہے ۔اس نے یہ نہ جاناکہ مقصود تو صفت ِ علم کو اس کے دل میں قائم رکھنا اور پختہ کرنا ہے تاکہ یہ اس کے لئے دنیا میں سعادت کا سبب بنے اور والد اسے شفقت کی وجہ سے اس بات کی طرف کھینچ رہا تھا جس میں اس کی سعادت تھی۔ اس مثال نےآپ کے لئے ان لوگوں کی گمراہی واضح کردی جو اس طریقے سے گمراہ ہوتے ہیں۔
مال لینا مسکین کا احسان ہے:
خلاصَۂ کلام یہ ہے کہ آپ سے مال حاصل کرنےوالامسکین اس مال کے ذریعےآپ کے دل سے بخل کی خباثت اور دنیاکی محبت نکالتا ہے اور یہ دونوں ہلاکت میں ڈالنےوالی ہیں۔ گویا مسکینپَچھنے لگانےوالے کی طرح ہے جو آپ سے خون نکال کر اندر سے مہلک بیماری ختم کرتا ہے۔مسکین توآپ کاخدمت گار ٹھہرا، آپ اس کی خدمت نہیں کرتے۔بالفرض!اگر خون نکالنے میں اس کاکوئی مقصد ہوتامثلاً:خون سے کوئی چیزتیارکرنی ہوتی تب بھی وہ آپ کےخادم ہونےسے خارج نہیں ہوتا۔
چونکہ صَدَقات باطن کی طہارت اور بری صفات سے تزکیہ کا باعث ہیں اسی لئے رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے اپنے لئے قبول نہ فرمایا جیسا کہ پَچھنے لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا(1) اور صدقات کو لوگوں کے میل کا نام دیا(2) اور اہْلِ بیت کو اس سے محفوظ رہنے کاشرف عطا فرمایا۔
مقصود یہ بتاناہے کہ اعمال دل پراثراندازہوتے ہیں جیسا کہ’’مُہْلِکات کے بیان‘‘ میں گزر چکا ہے اور دل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب عن کسب الحجام،۳/ ۲۰،حدیث:۲۱۶۵
2…مسلم،کتاب الزکاة،باب ترک استعمال ال النبی علی الصدقة،ص۵۴۰،حدیث:۱۰۷۲