بغیر بھی حاصل ہوجاتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان غلاموں کے چلے جانے سے والدصاحب کو کوئی نقصان نہیں ہوتا چہ جائیکہ وہ قرآن پاک پڑھنا نہ جانتے ہوں ۔پس یوں بعض اوقات وہ سستی کرنے لگتاہے اوروالد کی بے پروائی اور درگزر پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو پڑھانا چھوڑ دیتا ہے یوں قران ِ پاک اوردیگرعلوم کو بھول جاتا ہے اور ایسا محروم ہوجاتا ہے گویااسے کچھ پتہ ہی نہیں ۔
بعض لوگ اس قسم کے خیالات کی وجہ سے دھوکے کاشکارہوئے اورانہوں نے اباحت پسندی کی راہ اختیار کرلی اورکہنےلگے:اللہ عَزَّ وَجَلَّکو ہماری عبادت کی ضرورت ہے نہ وہ ہم سے قرض لینے کا محتاج۔(اگر یہ بات ہے )تو پھر اس آیت: مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا (پ۲،البقرة:۲۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ہے کوئی جواللہ کو قرضِ حسن دے۔
کا کیا مطلب ہوا؟
مزید ان کا یہ کہنا ہے:اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان مساکین کو کھانا دینا چاہتاتو دے دیتالہذا ہمیں ان پر مال خرچ کرنے کی ضرورت نہیں جیساکہ قرآن مجیدمیں کفار کا قول ذکر ہے: وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمْ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنُطْعِمُ مَنۡ لَّوْ یَشَآءُ اللہُ اَطْعَمَہٗۤ ٭ۖ (پ۲۳،یس:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب ان سے فرمایا جائے اللہکے دئیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لئے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کِھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا۔
کفارنے یہ بھی کہا: لَوْ شَآءَ اللہُ مَاۤ اَشْرَکْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا (پ۸،الانعام:۱۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہچاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا۔
دیکھئے!کفار اپنے کلام میں کس قدر سچے نکلے اور کس طرح اپنی سچائی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ۔پاک ہے وہ ذات جوچاہے توسچ بولنے والے کوہلاک کردے اور جہالت کے باوُجود سعادت مندی کی دولت سے لوگوں کومالامال کردے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: