Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
402 - 882
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا (پ۲،البقرة:۲۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ہے کوئی جواللہ کو قرضِ حسن دے۔
	اور ارشاد فرماتاہے:	 وَیَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ (پ۱۱،التوبة:۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اورصدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتا ہے۔
	یہ سب فضیلت ہوتے ہوئے کس طرح  عمل اور مال  خرچ کرنا افضل نہ ہوگا؟جواب :یادرکھیے!طبیب جب دوائی کی تعریف کرے توہرگزیہ مقصد  نہیں ہوتاکہ وہ بعینہ  مقصود ہے یا وہ صحت و شفا سے افضل ہے۔البتہ  نیک اعمال قلبی بیماریوں کا علاج ہیں اور قلبی بیماریوں کا عام طور پر پتہ نہیں چلتا جیسے کسی شخص کے چہرے پربرص کے  داغ ہوجائیں اورآئینہ نہ ہو تو اسے  شعور نہیں ہوتا۔ اگر اسے بتایا جائے تو یقین نہیں کرتا تو  ایسے شخص سے بات کرنے کاطریقہ یہ  ہے کہ اگر عرق ِگلاب ان داغوں کو زائل کرتا ہو توعرق ِگلاب سےچہرہ دھونے کی حدسے بڑھ کرتعریف کی جائے تا کہ زیادہ تعریف اسے مسلسل منہ دھونے پر مجبور کردے اور اس کا مرض زائل ہوجائے لیکن اگر اس سے کہا جاتاکہ  مقصود تمہارے چہرے سے برص کے داغ کو زائل کرنا ہے تو ممکن  تھاکہ وہ علاج  نہ کرتا اور یہ خیال کرتا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔
	 اسی  سے قریب ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کوقرآن  اوردیگرعلوم کی تعلیم  دلائی اب وہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹااسے  یاد رکھے اور بھولے نہ،مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر  بیٹے کو تکرار کرنے یا پڑھنے کے لیے کہوں  تاکہ علم  محفوظ رہے تو بیٹا کہے گا: مجھے یاد ہے ، تکرار کرنے اور پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بیٹے کاگمان ہے جو کچھ اسے تعلیم کے دوران یاد تھا وہ ہمیشہ یادرہے گا۔اسی شخص  کے غلام بھی ہوں تو وہ بیٹے کو کہے: تم غلاموں کو پڑھاؤ اور اچھے انعام کا وعدہ بھی کرلے تاکہ  بیٹاسکھانے کے ذریعے زیادہ تکرار کرسکے۔ بعض اوقات بے چارہ  بیٹا یہ سمجھتا ہے کہ مقصود غلاموں کو قران پاک کی تعلیم دینا ہے جبکہ میں تو تعلیم کے ذریعے ان کی خدمت کررہا ہوں ۔ اسے یہ وسوسہ  پریشانی میں مبتلاکردیتا ہے اور سوچنےلگتا ہے کہ کیا وجہ ہے والدصاحب مجھ سے ان غلاموں کی خدمت لے ر ہے ہیں حالانکہ میں توان کے نزدیک زیادہ معزز و محترم ہوں ۔میں جانتاہوں اگر والدصاحب  کا مقصد غلاموں کو تعلیم دینا ہوتا تو مجھے ذمہ داری دیئے