ہے۔بخل جس کی پیروی کی جائےہلاکت میں ڈالنےوالی ہے اور اس کےبخل کو سوسال کے روزے اور ایک ہزار راتوں کی عبادت بھی دور نہیں کرسکتے بلکہ اس کا اِزالہ مال خرچ کرنے سے ہوتا ہے لہٰذا اسے صدقہ خیرات کرنی چاہئے۔ ہم نے اس کی تفصیل مُہلِکات کے بیان میں ذکر کی ہےوہاں مطالعہ کرلیجئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اطاعت وفرمانبرداری کے اثرات احوال کےاعتبار سے مُرَتَّب ہوتے ہیں لہٰذا سمجھدار شخص ایسی صورت میں پہچان لے گا کہ تحقیق سے خالی جواب میں خطا ہے کیونکہ کوئی شخص پوچھے کہ روٹی بہترہے یا پانی؟ تواس کادُرُست جواب یہی بنےگا کہ بھوکے کے لئے روٹی اور پیاسے کے لئے پانی بہترہے ۔ اگر دونوں باتیں پائی جائیں توجسے غلبہ حاصل ہو اُسے دیکھا جائےکہ اگر پیاس غالب ہو تو پانی بہتر ہے اور اگر بھوک غالب ہو تو روٹی بہتر ہے۔ اگر دونوں برابرہوں تو دونوں پر برابر ی کاحکم ہوگا۔
اسی طرح جب پوچھا جائے کہ سِکَنْج بِیْن(1)بہتر ہے یا نیلو فر(2) کا شربت؟ تومطقاً جواب دینا درست نہ ہوگا۔ہاں اگر ہم سےیہ پوچھا جائے کہ سِکَنْج بِیْن بہترہے یا صَفرا(3) کا نہ ہونا بہتر ہے؟تو ہم کہیں گےصفرا کا نہ ہونا بہتر ہے کیونکہسِکَنْج بِیْن کی ضرورت صَفرا کوختم کرنےکے لئے ہوتی ہے اورجب کوئی چیز کسی دوسری چیزکے لیے مقصود بنےتودوسری چیز بہتر و افضل ہوتی ہے۔مال کا خرچ کرنا بھی ایک عمل ہے ،اس سے ایک حالت حاصل ہوتی ہے یعنی بخل کا زائل ہونا اور دل سے دنیا کی محبت نکلنا۔دنیاکی محبت نکلنے کے سبب دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت و محبت کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو مَعْرِفَتِ خُداوندی بہتروافضل ٹھہری ،حال اس سے کم اور عمل اس سے بھی کم درجہ ہوا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر کوئی یہ کہے کہ شریعت نے اعمال کی ترغیب دیتے ہوئے اس کی فضیلت مُبالَغَہ کے ساتھ بیان کی ہے حتّٰی کہ صدقہ دینے کی ترغیب میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…لیموں یا سرکہ سے تیار شدہ مشروب۔
2…ایک قسم کے نیلےپھول کا نام جو پانی میں پیدا ہوتا ہے اوردوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
3…اِخلاطِ اَرْبَعَہ میں سے ایک زرد رنگ کی کڑوی خلط۔