Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
400 - 882
 بعض  دل کی صفائی زیادہ کرتے اور بعض کم)توجو حالت دل کی صفائی کرنے میں قریب ہو یا قریب کرنے والی ہو وہ کم درجے والی حالتوں  سےلازماً افضل ہوگی کیونکہ وہ مقصود کے قریب ہے۔
عمل کی دو حالتیں:
	اعمال کی ترتیب بھی اسی طرح ہے کیونکہ انہی  کی  تاثیر دل کی صفائی اور احوال کو دل  پرطاری کرتی ہے اور  ہر عمل کی دو حالتیں ہوتی  ہیں:(۱)…وہ حالت  دل پر ایسے احوال طاری کردےجومکاشَفہ کی راہ  میں رکاوٹ بنیں ، دل کی تاریکی کا باعث بنیں اور دنیاوی زینتوں کی طرف لے جائیں یا(۲)…وہ حالت دل  پر ایسے احوال طاری کردےجومکاشفہ کی راہ ہموار کردیں ،دل کی صفائی کا سبب بنیں اور  دنیاوی  تعلُّقات  کو ختم کریں ۔پہلی حالت کومَعْصِیَّت (نافرمانی)اور دوسری کو اِطاعت(فرمانبرداری)کہتے ہیں۔
اطاعت ومعصیت کے اثرات:
	دل کی سختی اور تاریکی میں  معصیت کے اثرات  مختلف ہوتے  ہیں یونہی  دل کوروشن اور صاف کرنے میں اطاعت  کےا ثرات بھی مختلف ہوتے ہیں ۔گویامعصیت اوراطاعت  کے درجات اپنے  اپنے  تاثیری  درجات کے مطابق ہواکرتے ہیں اوریہ اختلاف ِ احوال کےسبب  بدلتے بھی رہتے ہیں مثلاً: ہم مُطْلَقاًیہ تو کہہ سکتے ہیں کہ نفلی نماز ہر نفلی عبادت سے افضل ہے ۔حج ، صَدَقہ سے افضل ہے ۔رات کی عبادت دیگرنفلی عبادات سے افضل ہے لیکن تحقیق یہ ہے کہ  ایسامال دارجس  پر بخل اور مال  جمع کرنے کی محبت غالب ہو اس کا(اطاعتِ الٰہی میں )ایک درہم خرچ کرنا کئی راتوں کی عبادت اور کئی دنوں کے روزوں  سے افضل ہے کیونکہ روزہ توایسے شخص کےلئے مناسب ہےجس پربھوک کی شہوت غالب ہواوروہ شہوت کو ختم کرناچاہے یا سیر ہو کر کھانا عُلومِ مکاشفہ میں غوروفکر سےرکاوٹ بنتاہوتواس نے(روزے رکھ کر)بھوک کے ذریعے دل کو صاف کرنے کاارادہ کیاہولیکن اس بخیل اور مال  جمع کرنے والےکی یہ حالت نہیں ہےکیونکہ اسے پیٹ کی شہوت نقصان دیتی  نہ  وہ کسی غوروفکر میں مشغول ہے کہ شکم سیری رکاوٹ بنےتو اس کا روزے رکھنا اپنی حالت چھوڑکر دوسرے کی حالت اختیارکرناکہلائےگااوریہ اس بیمار کی طرح  ہوگاجس کے  پیٹ میں درد ہو اور دواسر درد کی استعمال  کرے تویقیناًاسے فائدہ نہیں پہنچےگابلکہ اسے توہلاک کرنےوالی بیماری کو دیکھناچاہئے جو اس پر غالب