نور کے سامنے گنا ہو ں کے اندھیر ے نہیں ٹھہرتے جیسے دن کی روشنی کے سامنے رات کے اندھیر وں کا بس نہیں چلتا جیسے صابن کی سفیدی کے سامنے میل نہیں ٹھہرسکتا اور جس طرح بادشاہ میلے کپڑے کو اپنا لباس بنا نا پسند نہیں کرتاایسے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی گناہوں سے سیاہ ہوجانے والے دل کو اپنا قُرب عطانہیں فرماتا اور جس طرح ادنی کاموں میں کپڑے کا استعمال اسے میلا کر دیتا ہے اور صابن اور گرم پانی سے دھونا اسے صاف ستھراکردیتا ہے ایسے ہی دل کا شہوتوں اور خواہشوں میں استعمال اسے میلا کردیتا ہے اور آنسوؤں کے پانی اور ندامت کی حرارت سے دھونا اسے پاک وصاف کرتا ہے اور ہروہ دل جو پاک ہوگا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں مقبول ہوگا جیساکہ صاف ستھرا کپڑا ہی پسند اور قبول کیاجاتا ہے۔ بہرحال تم پر طہارت و پاکیزگی لازم ہے اور رہی قبولیت تو اس کے لئے اَزَلی فیصلہ موجود ہے جسے رد نہیں کیا جاسکتا اور درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ میں اسی کا نام فلاح رکھا گیا ہے: قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ﴿۹﴾۪ۙ (پ۳۰،الشمس:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک مراد کو پہنچا جس نے اُسے ستھرا کیا۔
دل اورغیر کی مَعْرِفَت:
جو بندہ تحقیق کی بنیاد پر ایسی معرفت حاصل نہیں کرتاجو آنکھ کے مشاہدے سے بڑھ کر مضبوط اور روشن ہو کہ دل گناہوں اور نیکیوں کے ذریعے متضاداثرقبول کرتاہے۔ایک کے لئے لفظ ظُلْمَت(یعنی اندھیرا) بولا جاتا ہے جیسے جہالت کو ظُلْمَت کہہ دیتے ہیں اور دوسرے کے لئے لفظ نور (یعنی روشنی) بولاجاتاہے جیسے علم کو نور کہہ دیتے ہیں اور نور وظلمت کے درمیان تضاد لازم ہےکہ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے تو گویاحقیقی معرفت حاصل نہ کرنے والے کا دین سے تعلق چھلکے جتنا ہی ہے اور نام کی حد تک واسطہ ہے اور اس کا دل حقیقتِ دین سے موٹے پردے میں ہے بلکہ وہ اپنے نفس کی حقیقت سے بھی حجاب میں ہے اور جو اپنے دل سے جاہل (لاعِلْم) ہو تو وہ دل کے غیرسے اور زیادہ جاہل ہوگا اور یہاں بات دل ہی کی ہورہی ہے کیونکہ بندہ دل کے علاوہ کی معرفت اپنے دل ہی سے حاصل کرتاہےتو پھر وہ بندہ غیر کی معرفت کیسےحاصل کرے جسے اپنے دل ہی کی معرفت نہیں۔
زبان سے توبہ توبہ کہنا کافی نہیں:
جسے یہ وَہْم ہوجائے کہ صحیح ہو نے کے باوُجُود توبہ قبول نہیں ہو تی تو یہ ایساہی ہے جیسے کسی کو وہم