Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
399 - 882
 ہیں اور کبھی ان میں تفاوت(فرق ) ہوتا ہےیہی صورتحا  ل علوم واحوال میں پیش آتی ہے۔ معارف میں علومِ مکاشفہ علوم ِمعاملہ سے ارفع و اعلیٰ ہیں بلکہ علومِ معاملہ تو خودمعاملات سے بھی کم درجہ ہیں کیونکہ  یہ معاملے کے لئے مقصود ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ اصلاحِ عمل ہے۔عالِم کو عابِد(عبادت گزار)پر فضیلت دینےکامطلب یہ ہے کہ  عالم کے علم سے دوسروں کو نفع پہنچےتو ایک خاص عمل(علم پر عمل ) کی وجہ سے یہ افضل ہوگیاورنہ کسی کاعلم  اگر عمل  سے خالی ہوتووہ عمل سے افضل نہیں ہے۔عمل کی اصلاح کا فائدہ حالِ دل کی اصلاح ہے اور حالِ دل کی اصلاح کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان  پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات  و صفات اور افعال کی تجلیات  منکشف ہوجاتی ہیں ۔ علومِ مکُاشفہ میں سب سے اعلیٰ و ارفع علم معرفَتِ خداوندی  ہے اور یہی حقیقی مقصودو مطلوب ہے کیونکہ اس کے ذریعے سعادت حاصل ہوتی ہے  بلکہ یہی عین سعادت ہے لیکن دنیا میں بعض اوقات دل کواس کے عیْنِ سعادت ہونےکا پتا نہیں  چلتا بلکہ اسے آخرت میں پتا چلتا ہےتو یہ آزاد معرفت  ہوتی ہے جس پر کوئی قید نہیں لہٰذا یہ ہر طرح کی قید سےآزادہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی معارف ہیں وہ اس لئے مطلوب ہوتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت حاصل کی جائے(ذاتی طور پر مقصود نہیں ہوتے) جب یہ معارف معرفَتِ خداوندی تک پہنچانے کا ذریعہ ہوئے تو یہ معرفَتِ خداوندی تک پہنچانے میں اپنے نفع کے اعتبارسے مختلف ہوں گے یوں ایک معرفت دوسری  معرفت تک ایک واسطے یا کئی واسطوں سے پہنچنے کا ذریعہ بنے گی اور جس معرفت میں بندے اور معرفَتِ خداوندی کے درمیان واسطے کم ہوں گے تو وہ معرفت (دیگر معارف سے) افضل ہوگی۔
احوال سے مراد:
	اَحوال سے ہماری مراد دل کےاحوال ہیں جنہیں دنیاوی عُیُوب ونقائِص اورمخلوق کی رغبت سےپاک وصاف کیاجائےیہاں تک کہ جب دل پاک صاف ہوجائےتواس پرمعرفَتِ خداوندی واضح ہوجاتی ہے۔ دل کی اصلاح وپاکی اوراسےعُلومِ مُکاشَفہ کے حُصول پرآمادہ کرنےمیں اَحوال کی فضیلت اپنی تاثیر کے مطابق ہوگی نیز جس طرح آئینے کو مکمل  طور پر صاف  وشفاف بنانے  کے لئے  پہلے کچھ اَحوال کی ضرورت   پیش آتی ہے جن میں بعض اَحوال  آئینے کوزیادہ صاف وشفاف بناتے اوربعض کم اسی طرح دل کے اَحوال ہیں (کہ