(5)… حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَامدیگر انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَامکے40 سال بعد جنت میں جائیں گے۔(1)
(6)…جنت کے تمام دروازوں کے دو دو کواڑ ہیں لیکن صبر کے دروازے کا ایک ہی کواڑ ہے اورجنت میں سب سے پہلے آزمائشں میں مبتلا لوگوں کے امام حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَامداخل ہوں گے۔(2)
فقر کی فضیلت میں جتنی رِوایات ہیں سب صبر کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ صبرفقیر کی حالت ہے اور شکر مالدار کی حالت ہے۔پہلے مقام کامضمون ختم ہواجوعوام کے سمجھنے کے لئےتھا۔ ان کے لئےاسی اندازکا وعظ کافی ہوتاہے اور اسی میں ان کے دین کی اصلاح ہے۔
٭…دوسرا مقام:اس مقام کی وضاحت اہل علم اورارباب بصیرت کے لئے ہے۔انہیں حقائِقِ اُمور اورکَشْف واِیضاح کے ذریعے آگاہ کیاجائے گا۔ اس سلسلے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ دومُبْہَم چیزوں کے درمیان اِبہام کی موجودگی میں مُوازنہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان میں سے ہر ایک کی حقیقت واضح نہ ہوجائے۔پھرجس چیز کی حقیقت واضح ہوجائے اگر وہ کئی قسموں پر مشتمل ہوتو ان میں اِجْتِماعی طور پرمُوازنہ ممکن نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ہر فرد کا الگ الگ موازنہ کیا جائے تاکہ ترجیح کا تعیُّن ہوجائے۔
صبرو شکر کودیکھاجائے توان کی اقسام اور شعبے بے شمار ہیں۔ اسی لئے اجمالاً ان دونوں میں ترجیح و نقصان کا حکم واضح نہیں ہوسکتا۔ ہم یہ پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ یقین کے مقامات تین اُمور یعنی علوم، احوال اور اعمال سے مرکب ہوتے ہیں۔صبروشکر اور دیگر ذکرکئے جانےوالےمقامات بھی انہی امورسے مرکب ہوتے ہیں ۔ ان تین امورکاآپس میں موازنہ کیا جائے تو ظاہری صورتحال دیکھنےوالوں کویہی بات سمجھ آئے گی کہ علوم احوال کااور احوال اعمال کاذریعہ ہیں لہٰذاان میں اعمال افضل ہوئےلیکن اربابِ بصیرت کی رائے بالکل برعکس ہے کیونکہ ان کے نزدیک اعمال احوال کا اور احوال کو علوم کاذریعہ ہیں چنانچہ وہ علوم کوافضل مانتے ہیں پھر احوال اور اس کے بعد اعمال کیونکہ جو چیزدوسروں کے لئےمقصودبنےوہ یقیناً افضل ہوتی ہےلیکن ان تینوں اُمورکوجب الگ الگ کرکے ایک دوسرے کی طرف منسوب کردیا جائے تو اعمال کبھی برابر ہوتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… المعجم الکبیر،۱۲/ ۹۴،حدیث:۱۲۶۵۱
2… تفسیرنیشاپوری،پ۱،سورة البقرة،تحت الایة:۱۵۵، ۱/ ۴۴۲