تفتیش نہیں کی جائے گی۔چونکہ عوام کم فہم ہوتی ہے،گہرائی کی باتیں نہیں سمجھ سکتی اس لئے انہیں آسان اندازپر سمجھانامناسب ہوگا۔واعِظِیْن اورمُقَرِّرِین کواسی اندازِ بیان کواپناناچاہئے کیونکہ عوام کےسامنےوعظ وبیان کا مقصد ان کی اصلاح ہواکرتی ہے۔ماں کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ بچے کو موٹے موٹے پرندے اور قِسْم قِسْم کی میٹھی چیزیں کھلا کر اس کی اِصلاح کرے بلکہ وہ اسے نہایت لطیف دودھ پلاتی ہے۔ اس پر لازم ہے کہ عمدہ کھانے اس وقت تک نہ دے جب تک بچہ ان کے قابل نہ ہوجائے اور اس میں پائی جانے والی کمزوری ختم ہوجائے۔
میں کہتا ہوں کہ یہاں بحث و تفصیل کی حاجت نہیں فقط یہاں شرعی دلائل کے ظاہری مفہوم کو دیکھا جائےتو ان سے صبر کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔ شکر کی فضیلت میں اگر چہ بہت سی روایات آئی ہیں لیکن صبر کی فضیلت میں واردروایات بہت زیاد ہ ہیں بلکہ صبرکی فضیلت میں صریح اَلفاظِ حدث موجودہیں ۔
صبرکے متعلق چھ فرامین مصطفٰے:
(1)… سب سے افضل چیز جو تمہیں دی گئی وہ یقین اور صبر ہے۔(1)
(2)…مروی ہےکہ بروزِقیامت روئے زمین کے سب سے زیادہ شکر گزار کو لایا جائے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے شکر کاثواب عطا فرمائے گاپھرروئے زمین کے سب سے زیادہ صبر کرنے والے کو لایا جائے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ اس شکرگزارکوملنےوالا ثواب تجھے بھی ملے؟وہ عرض کرے گا:ہاں میرے ربّ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائےگا:ہرگزنہیں!میں نے تجھے نعمت عطا کی تو تونے شکر کیا اورمصیبت میں مبتلا کیا تو تونے صبرکیا۔آج میں تجھے دُگنا اجر عطا کروں گاپھر اسے شکرگزاروں سے دُگنا اجرعطاکیا جائے گا۔(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾ (پ۲۳،الزمر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
(3)…اَلطَّاعِمُ الشَّاکِرُبِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِریعنی شکرادا کرتے ہوئے کھانے والاشخص صبر کرنے والے روزے دار کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…التفسیرالکبیر، پ۱، البقرة، تحت الایة:۱۵۵، ۲/ ۱۳۱
2…تفسیرنیشاپوری،پ۱،سورة البقرة،تحت الایة:۱۵۵، ۱/ ۴۴۲