Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
395 - 882
 یوں مستقبل میں محبوب سے ملاقات بھی ممکن ہے،لہٰذاجدائی ، رضا کا وسیلہ ہے اور رِضا ملاقاتِ محبوب کا وسیلہ ہے اور جوچیزمحبوب کی طرف وسیلہ بنےوہ بھی محبوب ہوتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص مال سے محبت کرتاہے،اس سےایک درہم لےکردودِرہم کاوعدہ کیاجائےتوایک درہم فی الحال چھوڑدے گا۔
٭…دوسری تاویل:شاعر کے  کلام کی تصدیق کےلئے دوسری تاویل یہ ہے کہ محب کو فقط محبوب کی رِضامطلوب ہے کیونکہ اگرمحبوب  کی رِضاحاصل ہوجائےتواس کی لذت بعض اوقات دیدارکی لذت سے بھی بڑھ جاتی ہے تو اس وقت یہ تصور کیا جاسکتا ہےکہ وہ اس میں پائی جانے والی رِضا کا ارادہ کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض  اہْلِ محبت کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے نزدیک وہ آزمائشیں جن میں ربّ عَزَّ  وَجَلَّکی رضاہواس سلامتی سے زیادہ لذیذہوگئیں جس میں رضائے الٰہی کاعلم ہی نہیں۔چنانچہ جب یہ لوگ آزمائش میں راضی رہنے پر قادر ہوجاتےہیں تو آزمائش  ان کےلئے عافیت سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔
	غلبَۂ عشق کی اس حالت کا پایا جانا  کوئی بعید نہیں ہے لیکن یہ حالت بہت مختصر رہتی ہے۔ اگر یہ باقی رہ جائےتویہ بات مُشْتَبَہ ہوجاتی   کہ یہ صحیح حالت ہےیادل پر وارد ہونےوالی دوسری حالت نےدل کوراہِ اعتدال سےمُنْحَرِف کردیاہے اور  یہ بات محل نظر ہے جس کی تحقیق ہمارے موضوع  سےمُناسَبَت نہیں رکھتی ۔ گزشتہ  گفتگوسے ظاہر ہوا کہ عافیت مصیبت سے بہترہے ۔ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے اپنے لئےاورتمام مسلمانوں کےلئے دنیا اور آخرت میں عفوو عافیت  کاسوال کرتے ہیں۔
تیسری فصل:				صبر افضل ہے یاشکر ؟
	اس بارےمیں اہْلِ علم کےمختلف اقوال ہیں ۔بعض صبر کو  اور بعض شکر کو  افضل قرار دیتے ہیں جبکہ بعض عُلَما دونوں کو برابر قرار دیتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں :جس طرح لوگوں کے احوال میں اختلاف ہونے سےحکم میں اختلاف ہوتا ہےیہاں بھی وہی مُعاملہ ہوگا۔ہر ایک گروہ کی دلیل میں شدید اِضْطِراب پایاجاتاہے جو حُصولِ مقصد سے دورکرتا ہے ۔ ان سب دلیلوں کو نقل کرنےکی کوئی حاجت نہیں بلکہ دُرُست قول کوذکرکرنےمیں جلدی کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ ہم اسے دومقام کے عنوان  کے نام سے بیان کریں گے:
٭…پہلامقام:اس مقام کی وضاحت عامیانہ انداز پر ہوگی یعنی ظاہری امر کو دیکھاجائے گااس کی حقیقت کی