اس شعر کو ذکر کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا سمنون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیشاب رک جانےکےمرض میں مبتلا ہوگئے۔وہ مَدْرَسوں کے دروازوں پر جاتے اور بچوں سے کہتے:”جھوٹی بات کرنےوالے چچا کے لئے دعا کرو۔“
کسی انسان کاعشق و محبت میں یہ کہنا کہ تمام مخلوق کی جگہ میں ہی جہنم میں جاؤں یہ ناممکن بات ہے۔ تاہم بعض اوقات محبت دل پر اس قدرغالب آجاتی ہے کہ مُحب خود کوان جیسی باتوں کےلائق سمجھ لیتاہے۔ جو عشْقِ حقیقی کاجام پیتا ہے وہ مدہوش ہوجاتاہے اوراس حالت میں ایسی بڑی باتیں کرجاتا ہے کہ نشہ زائل ہونےکے بعد اسے معلوم ہوجائےتوخودکہہ دے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جو کچھ تم نے اس سلسلے میں سنا(حضرت سمنون اور بزرگ عَلَیْہِمَا الرَّحْمَہکاکلام)ان عُشاق کا کلام ہے جو محبت میں بڑھے ہوئے ہیں اور عشاق کے کلام سے کانوں کو لذت حاصل ہوتی ہے لیکن قابل اعتبار نہیں ہوتاجیساکہ
حکایت:عاشقوں کاکلام قابل بیان نہیں ہوتا
ایک فاختہ کا نَراس کے قریب ہونا چاہتا تھا لیکن فاختہ اسے قریب نہیں ہونے دیتی ۔نرنے پوچھا:کونسی چیزتمہیں مجھ سے روک رہی ہے؟ اگر تم یہ کہو کہ میں تمہاری خاطر دونوں جہاں حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی حکومت سمیت الٹ پلٹ دوں تو میں یہ بھی کر ڈالوں ۔حضرت سیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ بات سن لی اوراسےبلا کرڈانٹاتواس نے عرض کی: یانَبِیَّ اللہ! عاشقوں کا کلام قابلِ بیان نہیں ہوتا۔
شاعر کہتاہے:
اُرِیْدُ وِصَالَہٗ ویُرِیْدُ ھِجْرِیْ فَاَتْرُکُ مَا اُرِیْدُ لِماَ یُرِیْدُ
ترجمہ:میں اس سےملاقات کا ارادہ کرتا ہوں مگر وہ مجھ سے دور ہونا چاہتا ہے پس میں اس کے ارادے کی خاطر اپنا ارادہ تبدیل کرتاہوں ۔
شاعرکی مراد بھی ناممکن ہےکہ اس نےپہلےملاقات کی خواہش ظاہرکی پھرمحبوب کے ارادے کواپنی خواہش بنالیاحالانکہ دونوں کاارادہ وخواہش ایک دوسرےکی ضد ہیں کیونکہ جوملاقات کاخواہشمندہوگا وہ جُدائی کا ارادہ کیسےکرےگا؟البتہ دو تاویلوں کے ساتھ اس کلام کی تصدیق کی جاسکتی ہے:
٭…پہلی تاویل:یہ صورت بعض احوال میں پیش آتی ہےتاکہ اس کے ذریعےمحبوب کی رِضا حاصل کرلی جائے