Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
393 - 882
 عافیت کا سوال کرو کسی شخص کو یقین کے علاوہ عافیت سے افضل چیز نہیں دی گئی۔“(1)
	یقین کاذکرفرماکر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جہالت اور شک کی بیماری سے دل کی عافیت کی طرف اشارہ فرمایاتو دل کی عافیت بدن کی عافیت سے اعلیٰ ہے۔
(3)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:وہ خیر جس میں کسی طرح کا شر نہ ہو وہ شکر کے ساتھ عافیت ہے۔مگربہت سے انعام یافتہ لوگ شکر نہیں کرتے۔
 (4)…حضرت سیِّدُنا مطُرِّف بن عبداﷲرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں عافیت میں رہوں اورشکر کروں یہ مجھے  مصیبت میں مبتلا ہو کر صبرکرنےسے زیادہ پسندہے۔
(5)…ایک مرتبہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَر وَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تیری طرف سے ملنے والی عافیت مجھے زیادہ پسند ہے۔(2)
	یہ بات دلیل وغیرہ کی محتاج نہیں (کہ عافیت مصیبت سے بہتر ہے)کیونکہ مصیبت دو اعتبار سے نعمت بنتی ہے:(۱)…بڑی مصیبت  نہ آنےکےاعتبار سےخواہ دنیا وی ہو یا دینی اور(۲)… ثواب کی اُمید کے اعتبار سے۔ لہٰذا  انسان  کو دنیا میں کامل نعمت کے حُصول اوربڑی  مصیبت سے  دور رہنے کا سوال کرناچاہئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کا شکر کرنے پر اخروی ثواب کا سُوال کرناچاہئے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات پر قادر ہے کہ شکر پر وہ ثواب عطا فرمائے جو صبر کرنےپر نہ دیاجائے۔ 
	ایک  بزرگ فرماتے ہیں :میں جہنم کے اوپر پل بنناچا ہتاہوں تاکہ لوگ مجھ  پرسے گزر کر پار ہوجائیں اور نجات پاجائیں اورصرف میں جہنم میں رہ جاؤں ۔حضرت سیِّدُنا سمنونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: 
وَلَیْسَ لِیْ فِیْ سِوَاکَ حَظٌّ	فَکَیْفَ مَا شِئْتَ وَاخْتَبِرْنِیْ
ترجمہ:میری ذات میں تیرےسواکسی کا حصہ نہیں تو جس طرح چاہے مجھے آزمالے۔ 
	یہ دونوں قول مصیبت کا سُوال کرنے پر دلالت کرتے ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندابی یعلی، مسندابی بکرالصدیق،۱/ ۷۶،حدیث:۱۲۹
2…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلا ثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۴۴،بلفظ’’عافیتک اوسع لی‘‘