کے خلاف چار آدمیوں سے حجت قائم فرمائے گا۔مال دار لوگوں کے خلاف حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام سے، غریب اورتنگدست لوگوں کے خلاف حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے، غلاموں پر حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام سے اور بیماروں پر حضرت سیِّدُنا ایوب عَلَیْہِ السَّلَام سے۔
سیِّدُنازَکریاعَلَیْہِ السَّلَام کا صبر:
(25)…مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا زکریاعَلَیْہِ السَّلَامبنی اسرائیل کےکُفّار سےایذا رسانیوں سے بچنے کے لئے ایک درخت کے اندر چھپ گئے تو ان کوجب اس کاپتا چلاتووہ آرا لے کر آئے اور درخت کو چیرنے لگے حتّٰی کہ آرا حضرت سیِّدُنا زَکریا عَلَیْہِ السَّلَام کے سر مبارک تک پہنچ گیا تو آپ نے ایک آہ بھری۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ اے زکریا!اگر تم نے دوبارہ آہ نکالی تو میں نَبـُـوَّت کے رجسٹر سے تمہارا نام نکال دوں گا۔(1)حضرت سیِّدُنا زکریا عَلَیْہِ السَّلَام نے صبرکیا حتّٰی کہ آپ کے دو ٹکڑے ہوگئے۔
(26)…حضرت سیِّدُنا ابو مسعود بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جس شخص کو مصیبت پہنچے اور وہ کپڑے پھاڑے یا سینہ پیٹے تو گویا وہ نیزہ لے کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے لڑنے کے لئے تیار ہوا۔
(27)…حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے بیٹے!سونے کے کھوٹے کھرے ہونےکاپتا آگ کے ذریعے چلتا ہے اور نیک بندے کاپتامصیبتوں کے ذریعے چلتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی قوم کو پسند کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے ان میں جو راضی رہا اس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رِضا ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی ہے۔
(28)…حضرت سیِّدُنا اَحنف بن قَیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:ایک دن میری داڑھ میں درد ہوا تو میں نے اپنے چچا سے کہا: میں داڑھ کے درد کی وجہ سے گزشتہ رات سو نہیں سکا حتّٰی کہ میں نے یہ بات تین بار کہی تو میرے چچا نے کہا: تم نے ایک رات میں درد کی اتنی زیادہ شکایت کردی؟میری آنکھوں کی روشنی ضائع ہوئے تیس برس ہوگئے لیکن اس کا کسی کو علم نہیں۔
(29)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا عزیرعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ جب تم پر کوئی مصیبت آئے تومیری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…(نبی سے نبوت کازوال مانناجائز نہیں)جوشخص نبی سے نبوت کازوال جائز جانے کافرہے۔(بہارِشریعت،حصہ اول،۱/ ۳۷)