سیِّدُناعمر بن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا صبر:
(19)…حضرت سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز اپنے بیمار فرزندکے پا س تشریف لے گئے تو ارشادفرمایا: اے بیٹے!تم میرے ترازو میں رکھےجاؤ یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں تمہارے ترازو میں رکھاجاؤں ۔بیٹے نے عرض کی: ابا جان !مجھے آپ کی پسند اپنی پسند سے زیادہ عزیزہے۔
سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَاکا صبر:
(20)…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے متعلق بیان کیاجاتاہے کہ جب انہیں بیٹی کےانتقال کی خبرملی تو” اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ (1)“پڑھنے کےبعدفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایک قابلِ سَتْر چیزکو ڈھانپ دیا اور میرے بوجھ کو ہلکا کیا اور مجھےاجروثواب عطافرمایا۔یہ کہنےکے بعدکھڑےہوکردو رکعت نفل نمازاداکی اور فرمایا: ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےحکم پر عمل کیااوریہ آیت تلاوت فرمائی:
وَاسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ (پ۱،البقرة:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔
(21)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو آپ سے واقفیت رکھنے والےایک مجوسی نےتعزیت کرتے ہوئےکہا:عقل مندآدمی کو آج وہ کام کرنا چاہئے جو بےوقوف شخص پانچ دن بعد کرتا ہے۔یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اس کی یہ بات لکھ لو۔
(22)…بعض علما کا قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو پے درپے آزمائش میں مبتلافرماتا ہے حتّٰی کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔
(23)…حضرت سیِّدُنا فُضیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے مومن بندے کو (اس کے بھلے کےلئے)آزمائش میں ڈالتا رہتا ہے جس طرح آدمی اپنے گھروالوں سے(ان کے بھلے کے لئے) اچھا سلوک کرتا رہتا ہے۔
(24)…حضرت سیِّدُنا حاتم اَصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن چار قسم کے لوگوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترجمۂ کنز الایمان:ہم اللہکے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔(پ۲،البقرة:۱۵۶)