رب تعالیٰ فرماتا ہے:”اے میر ے بندے! میں نے تجھے دنیا میں پاک اور صاف ستھرا نکال دیا ہے اور زندگی دے کر تجھے اس پر امین بنا دیا ہے۔اب میں دیکھوں گا کہ تو کیسے امانت کی حفا ظت کر تاہے؟“اور دوسرا یہ کہ جب ا س کی روح نکلتی ہے توباری تعالیٰ فرماتا ہے:”اے میر ے بند ے! تونے اپنے پاس موجود میری امانت کے ساتھ کیاسُلوک کیا؟ کیا تونے اس کی حفاظت کی تاکہ اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے مجھ سے ملاقات کرے تو میں بھی اپنا قول پورا کروں یاپھر تو نے اس سے ضا ئع کردیا تو میں مُواخَذہ اور پکڑ کروں؟“ اس فرمانِ باری تعالیٰ میں اسی طرف اشار ہ ہے: وَاَوْفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمْۚ وَ اِیَّایَ فَارْہَبُوۡنِ﴿۴۰﴾ (پ۱،البقرة:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اور خاص میرا ہی ڈر رکھو۔
نیز اسی کی رعایت کرنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا: وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہۡدِہِمْ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾ (پ۱۸،المؤمنون:۸) ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔
پانچویں فصل: شرائط پائے جانے پر توبہ یقیناً قبول ہے
گناہ کی سیاہی مٹانے والانور:
جان لیجئے کہ جب آپ قبولیت کا معنیٰ ومفہوم سمجھ گئے تو اب آپ کو اس بات میں شک نہیں رہنا چاہئے کہ”ہر صحیح توبہ قبول ہے۔“ پس نورِ بصیرت سے دیکھنے والے اورقرآنِ کریم کے انوار سے فیض یافتہ لوگ جانتے ہیں کہ ”ہر سلامت دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہا ں مقبول ہوتاہے اور آخرت میں اس کے جوارِرحمت میں نعمتوں سے مالامال اوراپنی باقی رہنے والی آنکھ سے دیدارِ الہٰی کے لئے تیار ہوگا۔“ اوروہ یہ بھی جانتے ہیں کہ”دل اپنی اصل کے اعتبار سے سلامتی والا پید ا کیا گیا ہے اور ہر بچہ فطرت (یعنی فطرتِ اسلام)پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کی سلامتی دل پر گناہو ں کا گَردوغُبار اورسیاہی چھا جا نے سے ز ائل ہوجا تی ہے۔“ اور نورِ بصیرت والے یہ بھی علم رکھتے ہیں کہ نَدامت کی آگ اس غُبار کو جلا کرختم کر دیتی ہے اور نیکی کا نور دل سے گنا ہ کی سیاہی مٹا دیتا ہے کیونکہ نیکیو ں کے