میں مُعاف کردے تواس کے کرم سے یہ بھی بعید ہے کہ وہ اُسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے۔
دوپسندیدہ گھونٹ:
(17)…حضرت سیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:دوگھونٹوں سے بڑھ کرکوئی گھونٹ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک پسندیدہ نہیں:(۱)…غصے کاگھونٹ جسے بندہ برداشت کرتے ہوئے پی لےاور(۲)…مصیبت کا گھونٹ جسےبندہ صبرکرتے ہوئے پی لے اور دوقطروں سےبڑھ کرکوئی قطرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنزدیک پسندیدہ نہیں:(۱)…راہِ خدامیں بہایاجانے والا خون کاقطرہ اور (۲)…رات کی تاریکی میں سجدے کی حالت میں نکلنےوالاآنسوکاقطرہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکےسواکوئی نہ دیکھ رہا ہو۔دو قدموں سےبڑھ کرکوئی قدماللہ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک پسندیدہ نہیں:(۱)…فرض نماز کے لئے اٹھنے والا قدم اور(۲)… صلہ رِحمی کے لئے اٹھنے والا قدم۔(1)
(18)…حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلَیْہِمَا السَّلَام کےایک شہزادےنےوفات پائی توآپ بےحدغمگین ہوئے۔ دو فرشتے حاضر ہوئے اور ایک مُعاملے کا فیصلہ کروانے آپ کے سامنےبیٹھ گئے۔ایک نے کہا :میں نے بیج بویاتھا جب کھیتی تیار ہوگئی تو اس نے رونددیا۔ آپعَلَیْہِ السَّلَام نے دوسرے سےاِستفسارفرمایا:تم کیا کہتے ہو؟ اس نے عرض کی : میں شاہراہ پر چل رہاتھاکہ اچانک ایک کھیتی پرنظر پڑی۔میں نے دائیں بائیں دیکھاتوکوئی راستہ نہ ملا ناچار کھیتی کے اوپر سے گزرناپڑا۔حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے پہلے سےاستفسارفرمایا: تم نے شاہراہ میں بیچ کیوں بویا ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ لوگ شاہراہ ہی سے آناجاناکرتے ہیں ؟توپہلےفرشتے نے کہا: آپ اپنے بیٹے کی جدائی پر کیوں غمگین ہیں؟ آپ بھی توجانتے ہیں کہ موت آخرت کا راستہ ہے۔ حضرتِ سیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام اسی وقت ربّ تعالیٰ کے حُضور متوجہ ہوئے اور اس کے بعد بیٹے کی وفات پرغم کا اظہار نہ کیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن المبارک، باب ماجاء فی الشح،ص۲۳۵،حدیث:۶۷۲،بتغیرقلیل،عن الحسن مرسلًا
جمع الجوامع،۶/ ۲۸۰، حدیث: ۱۹۱۴۴،مختصرًاعن علی رضی اللہ عنہ