فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیۡہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ (پ۷،الانعام:۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان: پھرجب انہوں نےبھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔
یعنی جب انہوں نے ہمارے اَحکام پر عمل کرناچھوڑدیا تو ہم نے ان پر بھلائی کے دروازے کھول دیئے: (1)
حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا (پ۷،الانعام:۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان:یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جوانہیں ملا ۔
یعنی جب انہیں بھلائی دی گئی: اَخَذْنٰہُمۡ بَغْتَۃً (پ۷،الانعام:۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا۔
(15)…حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانےمیں کسی نے دورِجاہلیت کی جان پہچان والی عورت کو دیکھا تواس سے بات کی پھرواپس چلنے لگے لیکن چلتے ہوئے اسے مڑ مڑ کر دیکھتے تھے۔ اسی دوران سامنے ایک دیوار سے ٹکرائے اور چہرے پر نشان پڑ گیا۔ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا فوری طور پر دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔(2)
(16)…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:کیا میں تمہیں قرآن پاک کی وہ آیت نہ بتاؤں جو بہت زیادہ امید دلاتی ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ وَ یَعْفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾ (پ۲۵،الشوری:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اورتمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے۔
معلوم ہوا دنیا میں تکالیف اورمصیبتیں گناہوں کی وجہ سے پہنچتی ہیں۔ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ مومن بندےکو کسی دنیاوی عذاب میں مبتلاکرتا ہے تو اس کے کرم سے بعید ہے کہ وہ اسے دوبارہ عذاب میں مبتلا کرے اور اگر اسے دنیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المعجم الاوسط،۶/ ۴۲۲، حدیث:۹۲۷۲
2…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی الصبرعلی البلاء،۴/ ۱۷۸،حدیث: ۲۴۰۴