Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
387 - 882
مومن کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی وجہ:
(12)…حضرت سیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَامنے ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ!مومن بندہ تیری فرمانبرداری کرتا ہے،نافرمانی سے بچتا ہے تو ا س سے دنیا کودورکرتااور اسے آزمائشوں میں مبتلارکھتا ہےجبکہ کافر تجھ  پر جرأ ت کرتا اور تیری نافرمانی  کرتا  ہے لیکن تو اس سے آز مائشوں کو دور کرتا اور دنیااس کے لئے کشادہ کردیتا ہے؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ بندے بھی میرے ہیں اور مصیبت و آزمائش بھی میرے اختیار میں ہے اورسب میری حمد  بیان کرتے ہیں۔ مومن  بندے کے کچھ گناہ ہوتے ہیں ۔میں اس سے دنیا کو دور کرکے مصیبتوں  میں  مبتلاکرتا ہوں نتیجۃً وہ  مصیبتیں اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں پھر جب وہ مجھ سے ملاقات کرےگاتومیں اسےاس کی نیکیوں کی  جزا عطاکروں گا۔رہاکافر تو  اس کے کچھ اچھےکام ہوتے ہیں،میں اسےوافِر دنیا اور مصیبتوں سے دور رکھ کر دنیا ہی میں اچھے کام کا بدلہ دے دیتا ہوں پھر جب وہ مجھ سے ملاقات کرےگاتومیں اسے اس کی برائیوں  کی سزا دوں گا۔
تکلیف وآزمائش گناہوں کا کفارہ:
(13)…ایک روایت میں ہےکہ  جب یہ آیت نازل ہوئی:  مَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا یُّجْزَ بِہٖ ۙ (پ۵،النساء:۱۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:جو برائی کرے گااس کا بدلہ پائے گا۔
	تو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےبارگاہ ِرسالت میں عرض  کی : اس آیت کے بعد بھلا کیسی  خوشی؟آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”ا ے ابوبکر!اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری مغفرت فرمائے۔ کیاتم بیمار نہ ہوگے؟ کیا تمہیں کوئی اذیت نہیں پہنچے گی؟ کیا تم غمزدہ  نہ ہو گے ؟یہ سب تمہارا بدلہ ہوں گے۔“(1)یعنی  یہ سب تکلیف و آز مائش تمہارے گناہوں کا کفارہ ہیں۔
(14)…حضرت سیِّدُنا عُقبہ بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ مُحسْنِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جب تم کسی  ایسے شخص کو دیکھو جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی پسندکے مطابق  عطا فرمائےجارہا ہے مگرپھر بھی وہ اپنے گناہوں  پر قائم ہے توسمجھ جاؤ کہ یہ ڈھیل ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسندللامام احمد بن حنبل، مسندابی بکرالصدیق،۱/ ۳۵،حدیث: ۶۸، ۷۱