(9)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت اور اس کے حق کی معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنے درد کی شکایت کرو نہ مصیبت کا ذکر۔(1)
(10)…حضرت سیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:تمہیں موت کے لئے پیدا کیا گیاہےمگرتمہاری حالت یہ ہےکہ فناہونےوالی عمارتوں کی تعمیرمیں لگے ہو۔تم فانی چیز کی حرص رکھتے ہواورباقی رہنے والی کوبھولے بیٹھےہو ۔سنو !تین ناپسندیدہ چیزیں کیا ہی اچھی ہیں(یعنی)فقر، بیماری اور موت۔
(11)… رحمَتِ عالَم،نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا اور اسے پاک کرنا چاہتا ہےتو مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا کردیتا ہے پھر جب وہ بندہ دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں:یہ تو جانی پہچانی آواز ہے۔ اگر وہ دوبارہ دعا کرے اور کہے: اے میرے ربّ!تو اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے:اے میرے بندے !میں موجود ہوں۔ تُو جس چیز کا سوال کرے گا عطا کروں گااور اگر کوئی اچھی چیز تجھ سے دور رکھوں گا توا سے اپنے پاس تیرےلئےافضل چیزسےبدل دوں گا۔
(اسی روایت کے ضمن میں )یہ بھی مروی ہے کہ بروزِقیامت نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا اورپورا پورا بدلہ دیا جائے گاخواہ وہ نمازی، روزہ دار،صَدَقہ کرنے والے یا حج کرنے والے ہوں۔ پھر ان لوگوں کو لایا جائے گا جو آزمائش میں مبتلا ہوئے تو ان کے لئے میزان قائم کیا جائے گا نہ ان کا نامَۂ اعمال کھولا جائے گا۔ ان پر اجرو ثواب کی بارش یوں ہوگی جس طرح ان پر مصیبتیں اُتراکرتی تھیں۔ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کے اجر کو دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے( تاکہ آج مصائب پر صبرکرنے والوں کا ثواب پاتے)۔ (2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے: اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾ (پ۲۳،الزمر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:صابروں ہی کوان کاثواب بھرپور دیا جائےگابےگنتی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مختصرمنھاج القاصدین،کتاب الصبروالشکر،فصل فی اداب الصبرعندالمصیبة،ص۳۲۳،فیہ: قول علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب المرض والکفارات،۴/ ۲۸۵،حدیث:۲۱۲
فردوس الاخبار،۱/ ۱۵۱، حدیث: ۹۷۸ …… الدارالمنثور، پ۲۳، الزمر، تحت الایة:۱۰، ۷/ ۲۱۵