یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا:اس سے بہتر انداز میں کسی نے مجھ سےتعزیت نہیں کی۔
مَصائب پر صبر کرنے کے متعلق بہت ساری روایات وارد ہیں ۔چنانچہ
مَصائب پر صبر کرنے کے متعلق 29روایات:
(1)… مَنْ یُرِدِ اللہ بہٖ خَیْرً ایُّصِبْ مِنْہٗ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّجس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے کسی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے۔“(1)
(2)…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کو اس کے جسم، مال یا اوالاد کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ ا س کا اِستقبال کرے تو قیامت کےدن مجھے حیا آئے گی کہ اس کے لئے میزان قائم کروں یا اس کا نامَۂ اعمال کھولوں ۔(2)
(3)… نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے:جس مسلمان پرکوئی مصیبت آئےپھروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان کےمطابق یوں کہے: اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ (پ۲،البقرة:۱۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم اللہکے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔
(اور یہ دعاکرے:)’’اَللّٰھُمَّ اَجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَعْقِبْنِیْ خَیْرًا مِّنْھَایعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے اس مصیبت پر اجر اور اس سے بہتربدل عطا فرما!‘‘تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا(3)۔(4)
(4)… دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارة المرض،۴/۴،حدیث: ۵۶۴۵
2…نوادرالاصول للحکیم ترمذی، الاصل الخامس والثمانون والمائة،۲/ ۷۰۰،حدیث:۹۶۳
3…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنااُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَایہ حدیث بیان کرنےکے بعد فرماتی ہیں:جب ابوسَلَمَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفوت ہوگئے تومیں نے سوچاکہ مسلمانوں میں ان سے بہتر کون ہوگا؟وہ توحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جانب ہجرت کرنےوالوں میں اول گھروالے تھے۔بہرحال میں نےیہ دعاپڑھ لی۔بعدازاںاللہعَزَّ وَجَلَّنے مجھے پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زَوجِیَّت کا شرف بخشا۔( مسلم،کتاب الجنائز،باب مایقال عندالمصیبة،ص۴۵۷،حدیث:۹۱۸)
4…الموطا للامام مالک، کتاب الجنائز، باب جامع الحسبةفی المصیبة،۱/ ۲۲۰،حدیث:۵۶۹