Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
383 - 882
تولازمی ہوتی ہے جیسے آپ کو پچھنا لگوانے کی ضرورت  پیش آئےتومفت میں کوئی پچھنا  لگادے یا کوئی شخص نفع بخش کڑوی دوا مفت میں پلادے۔ایسی صورت میں آپ کو تکلیف کاسامناہوگامگر خوشی  بھی ہوگی تو آپ  تکلیف پرصبراور خوشی کےباعث شکر کریں گے۔دنیامیں پیش آنےوالی ہرمصیبت کڑوی دوا کی طرح ہے جوابتداءً تکلیف دہ  محسوس ہوتی ہےلیکن بعدمیں نفع پہنچاتی ہے بلکہ یوں سمجھئےکہ ایک شخص دلکشی اور خوبصورتی دیکھنےکے لئےبادشاہ کے محل میں گیا، اسے معلوم ہے کہ یہاں سے لازماً واپس نکلنا  ہے پھربھی  اگر وہ وہاں کسی ایسی خوبصورت  چیز کو دیکھ لے جو اسے باہر نکلنے نہ دے تو یہ اس پر وبال اور مصیبت ہوگی کیونکہ اس چیزنےاس کے دل میں ایسے مکان کی محبت  پیداکردی جس میں رہنا ممکن نہیں ۔اگراس موقع پر اسے خیال آجائے کہ بادشاہ کو پتا چلا تو سزا دے گا تو وہ شخص  اس خوبصورت چیزکوناپسندکرےگاحتّٰی کہ اس  سے نفرت کرنے لگےگا یہ  عمل اس کے لئے نعمت  ہوگا۔ دنیا بھی ایک مکان ہے جس میں لوگ ماں کے پیٹ کےذریعے داخل ہوتے اور قبر کے دروازے سے واپس جاتے ہیں تو جو چیزاس  مکان سے محبت کا باعث بنے وہ مصیبت ہے اور جو چیز دلوں کو اس مکان سے اُچاٹ کرے،اس کی محبت ختم کرے وہ نعمت ہے۔ جس نےاس بات کوپہچان لیاممکن ہےوہ مصیبتوں پرشکربھی کرےلیکن جس نےیہ نہیں پہچانا کہ ان مصیبتوں میں نعمتیں بھی ہیں اس سے شکر کا تصور نہیں کیاجاسکتا کیونکہ شکر لازماً نعمت کی  پہچان کے بعد ہوتا ہے اور جس آدمی کا اس بات پر ایمان  نہ ہو کہ مصیبت کاثواب مصیبت سے زیادہ ہوتا ہے اس سےبھی مصیبت پر شکر متصوَّر نہیں۔
	منقول ہے کہ کسی دیہاتی نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ان  کےوالد کی وفات  پر تعزیت کرتے ہوئے کہا:
اِصْبِرْ نَکُنْ بِکَ صَابِرِیْنَ فَاِنَّمَا	صَبْرُ الرَّعِيَّةِ بَعْدَ صَبْرِ الرَّاْسِ
خَیْرٌ مِّنَ الْعَبَّاسِ اَجْرُکَ بَعْدَہٗ	وَاللہ	 خَیْرٌ      مِّنْكَ         لِلْعَبَّاسِ
	ترجمہ:صبرکیجئے تاکہ ہم بھی آپ کی وجہ سے صبرکریں کیونکہ رعایا  کا صبرسردار کے صبرہی سےہوتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد آپ  کااجر ان سے بہترہےاور حضرت سیِّدُنا عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ سے بہتر ہے۔