اس کی وجہ پوچھی گئی تو ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قضا سےمتعلق مومن کے معاملے پر تعجب ہے کہ اگر اسے بھلائی پہنچتی ہے تو اس پر راضی رہتا ہے یہی اس کے لئے بہتر ہے اور اگر آزمائش پہنچے تب بھی راضی ہوتا ہے یہی اس کے لئے بہتر ہے۔(1)
٭…دوسری وجہ:مہلک گناہوں کی بنیاد دنیا کی محبت ہے اوردنیاسے دل کااُچاٹ ہوجانااُخروی نجات کی بنیاد ہے۔ کسی مصیبت وآزمائش کےبغیرخواہش کےمطابق دنیا وی نعمتوں کاپے درپےملنا دل میں دنیا اور اس کے اسباب کی طرف محبت و میلان پیداکرتاہے حتّٰی کہ دل دنیاکوجنت سمجھ بیٹھتاہے اورموت کےوقت دنیا کو چھوڑنا اس کے لئے بہت بڑی مصیبت بن جاتا ہے لیکن جب مصیبتیں زیادہ ہوں تو دل دنیاسےاُچاٹ ہو
جاتا ہے، اسے دنیامیں سکون ملتاہے نہ اس کی محبت بڑھتی ہےبلکہ دنیا اس کے لئے قید خانہ بن جاتی ہے اور اسے دنیا سے نجات پانے کی شدیدخواہش ہوتی ہےجس طرح (قیدی کو)قید سے چھوٹنے کی شدیدخواش ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْـکَافِرِیعنی دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔“(2)
حدیث پاک کی شرح :
حدیث ِ پاک میں کافرسےمراد وہ شخص ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے منہ موڑکردنیا کاہوکر رہ جاتا ہے اسی پر راضی اور مطمئن رہتا ہے اور مومن سے مراد وہ شخص ہے جس کا دل دنیا سے اچاٹ ہو اور دنیاچھوڑنے کے لئے بے چین ہو۔
کفرکی دوقسمیں ہیں:(۱)…کُفرِجَلی اور (۲)…کُفرِخَفِی ۔
دنیاکی محبت جس قدردل میں بڑھے گی کُفرِ خفی اتنا بڑھےگا بلکہ حقیقی مُوَحِّد وہ ہےجس کے دل میں صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کاخیال ہو۔
جب ایسی بات ہے تومصیبتوں کاشمارنعمتوں میں ہوگا لہٰذا اس پر خوش ہونا چاہئے۔مصیبت میں تکلیف
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسلم، کتاب الزھد، باب المومن امرہ کلہ خیر،ص۱۵۹۸،حدیث: ۲۹۹۹
2… مسلم، کتاب الزھد والرقائق، ص۱۵۸۲،حدیث: ۲۹۵۶